صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 622 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 622

صحيح البخاری جلد ٣ ۶۳۴ ٣٠ - كتاب الصوم بَاب ۳۹ : وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ (البقرة: ١٨٥) اُن پر جو اس کی طاقت رکھیں فدیہ ہے قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَسَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَع حضرت ابن عمر اور حضرت سلمہ بن اکوع نے کہا: یہ آیت نَسَخَتْهَا شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ) منسوخ کر دی ہے اس آیت فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ نے کہ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا وَبَيَّنَتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ گیا جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کے دلائل ہیں اور حق و باطل کے درمیان کھلا فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ کھلا امتیاز ہے۔پس تم میں سے جو شخص اس مہینے کو وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ پائے تو چاہیے کہ وہ مہینہ بھر روزے رکھے۔اور جو مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ بیمار ہو یا سفر پر ہوتو اور دنوں میں گنتی پوری کرے۔الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ اللہ تم پر تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے تنگی نہیں چاہتا وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلى اور چاہیے کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو مَا هَدَيكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ اس بات پر کہ تمہاری اُس نے صحیح راہنمائی کی ہے (البقرة: ۱۸۶) تاکہ تم شکر گزار ہو۔وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا اور (عبداللہ بن نمیر نے کہا: اعمش نے ہم سے بیان عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنَا کیا کہ عمرو بن مرہ نے ہمیں بتایا کہ ابن ابی لیلی نے ہم أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے بیان کیا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ہم سے بیان کیا: رمضان کا حکم نازل ہوا تو اُن پر گراں نَزَلَ رَمَضَانُ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَكَانَ مَنْ ہوا ( کہ روزے رکھیں۔) پس جو ہر روز مسکین کو کھانا أَطْعَمَ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِيْنًا تَرَكَ الصَّوْمَ کھلاتا روزہ چھوڑ دیتا۔یعنی وہ شخص جو فدیہ دینے کی مِمَّنْ يُطِيقُهُ وَرُحْصَ لَهُمْ فِي ذَلِكَ طاقت رکھتا اور اس بارے میں ایسے (کمزور) لوگوں فَنَسَخَتْهَا : وَاَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ کو سہولت دی گئی۔تو پھر یہ آیت منسوخ کر دی اس (البقرة: ١٨٥) فَأُمِرُوْا بِالصَّوْمِ۔آیت نے کہ تمہارے لئے روزہ رکھنا بہتر ہے۔چنانچہ انہیں روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا۔