صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 621 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 621

صحيح البخاری جلد ٣ ۶۲۱ باب ۳۸ : مَنْ أَفْطَرَ فِي السَّفَرِ لِيَرَاهُ النَّاسُ سفر میں جس نے روزہ افطار کیا تا لوگ اُسے دیکھیں ٣٠ - كتاب الصوم ١٩٤٨: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ :۱۹۴۸ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور سے، منصور مَّنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ نے مجاہد سے، مجاہد نے طاؤس سے، طاؤس نے ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ مکہ کے لئے نکلے تو آپ نے روزہ رکھا یہاں تک کہ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ جب عسفان پہنچے تو پھر پانی منگوایا اور آپ نے اپنے لِيَرَاهُ النَّاسُ فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ہاتھوں کو بلند کر کے اُسے اُٹھایا تا کہ لوگ دیکھیں۔وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسِ پھر آپ نے روزہ کھول دیا اور اسی حالت افطار میں يَقُوْلُ قَدْ صَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّه مکہ پہنچ گئے اور یہ واقعہ رمضان میں ہوا۔حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ ابن عباس کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ۔نے روزہ بھی رکھا اور افطار بھی کیا۔پس جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔اطرافه: ١٩٤٤، ٢٩٥٣، ٤٢٧٥، ٤٢٧٦ ٤٢٧٧، ٤٢٧٨ ٤٢٧٩۔تشريح : مَنْ أَفْطَرَ فِى السَّفَرِ لِيَرَاهُ النَّاسُ : اس باب میں آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا ہے جس کی برکت سے صحابہ کرام کی اعلیٰ تربیت ہوئی۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ۔عملا عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ یدیہ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱ اصفحہ ۵۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔