صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 620
صحيح البخاری جلد۳ ۶۲۰ ٣٠ - كتاب الصوم جیٹ (Jet) میں بیٹھ کر لندن سے امریکہ پہنچتا ہے۔وہاں پہنچتے پہنچتے اس کا تھکاوٹ سے یہ حال ہو جاتا ہے کہ باقاعدہ اس کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تم فوری طور پر اپنی کسی اہم میٹنگ میں نہ جاؤ اور ڈرائیونگ خود نہ کرو۔Jet Lag ہو گیا ہے۔تو زمانہ بدلا ہے تو ساری کیفیات بدلی ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔جہاں آپ سمجھتے ہیں کہ سفر ہے ، وہاں سفر کی صعوبتیں ضروری ہوتی ہیں۔گھر کی اور بات ہے سفر کی اور بات ہے۔وہ پنجابی میں کہتے ہیں :۔جیڑے عیش چوبارے نہ بلخ نہ بخارے جب انسان گھر سے نکلتا ہے تو مسافر بن جاتا ہے اور بے آرامی شروع ہو جاتی ہے۔“ مجلس عرفان مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۹۴ء - مطبوعه روز نامه الفضل ربوه ۲۰ ، اپریل ۲۰۰۲ صفحه ۳) بَاب :۳۷ : لَمْ يَعِبْ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي الصَّوْمِ وَالْإِفْطَارِ نبی ﷺ کے صحابہ نے روزے اور افطار کے بارے میں ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کی ١٩٤٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۱۹۴۷ : عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ مَّالِكِ عَنْ حُمَيْدِ الطُّوِيْلِ عَنْ أَنَسِ انہوں نے مالک سے، مالک نے حمید طویل سے، حمید ابْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ نے حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعِبِ روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِر وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَی ساتھ ہم سفر کیا کرتے تھے تو روزہ دار بے روزہ دار پر اعتراض نہ کرتا اور نہ بے روزہ دار روزہ دار پر۔الصَّائِمِ صلى الله تشریح : لَمْ يَعِبُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ مَا بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي الصَّوْمِ وَالْإِفْطَارِ: اس باب میں بتایا گیا ہے کہ مسائل میں صحابہ کرام وسیع النظر اور بلند حوصلہ تھے۔چھوٹے چھوٹے اختلاف پر گرفت نہیں کرتے تھے۔