صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 619
صحيح البخاری جلد۳ ۶۱۹ ٣٠ - كتاب الصوم ہوتا ہے۔جب آپ گھر سے بے گھر ہوتے ہیں اور کچھ عرصے کے لیے یہ ارادہ کر کے نکلتے ہیں کہ ہم اب باہر رہیں گے تو سفر شروع ہو جاتا ہے۔سفر شروع ہونے کے بعد پھر یہ بحث نہیں رہتی کہ تھوڑا سفر کیا ہے یا زیادہ کیا ہے۔اگر آپ سفر کی نیت سے نکلتے ہیں تو تھوڑ اسا سفر کرنے پر بھی آپ کا سفر شروع ہے اور یہی حال واپسی کا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے متعلق روایت ملتی ہے کہ جب آپ سفر سے واپس آیا کرتے تھے تو شہر میں داخل ہونے سے پہلے جو نماز پڑھتے تھے وہ قصر کرتے تھے۔حالانکہ شہر ہوسکتا ہے کوس دو کوس کے فاصلے پر رہ گیا ہو۔تو یہ سارے معاملات نیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اس ضمن میں ایک اور بحث جو اُٹھائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اب ہمارے سفر خواہ کتنے بھی لمبے ہوں ، وہ آرام دہ ہو گئے ہیں۔اس لیے سفر کی جو سہولتیں قرآن کریم نے دی ہیں اُن سے استفادہ جائز نہیں۔یہ بات بھی غلط ہے اور انسانی فطرت کے خلاف ہے اور قرآنِ کریم کا جو مرتبہ ہے اُس کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں یہ بات پیدا ہوتی ہے۔قرآنِ کریم میں جب اللہ تعالیٰ سفر کی سہولت دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ ہر زمانے میں سفر کس کس کیفیت سے گذریں گے اور آسان ہوں گے یا مشکل ہوں گے۔یہ ساری باتیں اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔پھر ہر سفر اُس زمانے میں بھی تو ایک جیسا نہیں تھا۔کچھ خواتین اونٹوں پر ہودج میں بیٹھ کر سفر کرتی تھیں۔کچھ کو کہار اُٹھا کر پھرا کرتے تھے۔کچھ پیدل چلنے والے تھے کچھ سوار تھے۔گرمیوں کے سفر تھے، سردیوں کے سفر تھے۔مختلف سفروں کی کیفیات اس زمانے میں بھی ادلتی بدلتی تھیں تو اس زمانے میں اگر سفر کی کیفیات بدلی ہیں تو یاد رکھنا چاہیے کہ انسانی مزاج بھی تو بہت بدل چکے ہیں۔اس زمانے میں ایسی بھی شہادت ملتی ہے کہ ہمایوں نے ایک سو میل کی منزل گھڑ سواری کے ساتھ کی ہے۔پس وہ بھی لوگ تھے جو ایسے کڑے بدن کے تھے کہ سوسو میل کی منزلیں گھوڑے پر طے کرتے تھے۔آج حال یہ ہے کہ دس بارہ میں گھوڑے پر جو کر لے تو جوڑ جوڑ دُکھنے لگتا ہے۔تو اس لیے مزاج بھی تو بدلے ہیں۔اب دیکھ لیجے سفر خواہ کتنے ہی آسان ہو گئے ہوں جو شخص چھ گھنٹے میں