صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 618 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 618

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۱۸ ٣٠ - كتاب الصوم اور مسافر روزہ نہ رکھے۔ مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہو۔ رے ختم ہونے کے بعد روزے ہونے رکھے۔ خدا تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنا چاہیے۔ کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حاصل کر سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمبا ہو۔ بلکہ حکم عام ہے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔ مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو اُن پر حکم عدولی کا فتوی لازم آئے گا۔ ( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۳۲۱) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے ۱۹۹۴ء کی ایک مجلس عرفان میں اس سوال کے جواب میں کہ کتنے میل کا 21 سفر ہو تو روزہ نہ رکھا جائے ، نہایت مدلل اور سیر حاصل بحث فرمائی ہے۔ آپ نے فرمایا: ۔۔۔ لفظ سفر قرآن کریم نے رکھا ہے۔ اس کی فاصلے میں تعیین نہیں کی ۔ اس میں بہت بڑی حکمت ہے۔ اور وہ حکمت یہ ہے کہ زمانے کے بدلنے سے سفروں کی تعریف بھی بدلتی جاتی ہے۔ ایک سفر وہ تھا جو اُس زمانے میں کیا جاتا تھا۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ ایک منزل بارہ میل سے لے کر میں میل تک ہوتی تھی تو اس خیال سے بعض علماء نے بارہ سے بیس میل کے درمیان کا فاصلہ سفر کا فاصلہ قرار دیا ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں ہے اور اب تو خاص طور پر میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ ایک شہر میں ہی ایک کنارے سے لے کر دوسرے کنارے تک سو میل کے قریب بن جاتا ہے۔ میں جب ۷۸ء میں امریکہ گیا تھا تو شکاگو میں ایک ایسے گھر میں ٹھہرے ہم جہاں وہ ایک کنارے پر واقع تھا۔ دو پہر کو ہمارا کھانا کہیں تھا وہاں تک کا فاصلہ ہے میل کے قریب تھا یا کچھ زائد اور پھر رات کا کھانا کہیں اور تھا۔ وہاں بھی ۸۰۰۷۰ میل کا فاصلہ طے کر کے پہنچے جوکم و بیش اتنا ہی ہے جیسے ربوہ سے شیخو پورہ چلے جائیں یالا ہور کے کنارے تک پہنچ جائیں۔ اور وہ سفر نہیں تھا۔ ہمارا دل بتاتا تھا۔ سب جانتے تھے ہم کہ یہ سفر نہیں ہے، Trip ہے۔ شہر کے اندر اتنے بڑے بڑے فاصلے ہوتے ہیں لیکن اگر انسان سفر پر نکلے اور ارادہ سفر کا ہو تو اس سے کم بہت کم فاصلے بھی سفر بن سکتے ہیں۔ انسانی مزاج بتاتا ہے، اس کی نیت کا دخل ہوتا ہے کہ ہم سفر پر چل رہے ہیں کہ نہیں۔ اس لیے میلوں میں سفر نا پن نہ درست ہے، نہ کوئی قطعی سند ایسی ملے گی کہ اتنے میل پر سفر شروع