صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 617 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 617

صحيح البخاری جلد ٣ 11८ ٣٠ - كتاب الصوم حالت میں بھی روزہ عمل صالح نہیں۔عمل صالح وہ عمل ہے جو موقع محل کے مطابق ہو۔( اس ضمن میں کتاب الجہاد والسیر تشریح باب ۳۶ روایت نمبر ۲۸۴ بھی دیکھئے ) ارشاد فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ اُخَر سے جو سہولت دی گئی ہے اس پر عمل کرنا واجب ہے۔اکثر ائمہ کی رائے میں یہ اجازت بغرض سہولت ہے۔اگر سفر میں کوئی مشقت محسوس نہیں ہوتی تو روزہ رکھنا واجب ہے۔یہ فتویٰ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کا ہے اور اول الذکر فتوی امام احمد بن حنبل ، اوزاعی وغیرہ کا ہے۔یعنی سفر میں روزہ رکھنا گناہ ہے۔فقہاء کا ایک تیسرا گروہ بھی ہے۔جن کی رائے ہے کہ سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے بارہ میں اختیار ہے چاہے رکھے یا نہ رکھے۔وجوب و غیرہ کا سوال نہیں۔اُن میں سے ایک چوتھا گر وہ بھی ہے جس نے آیت يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ (البقرة : ۱۸۶) سے یہ استدلال کیا ہے کہ اَفْضَلُهُمَا أَيْسَرُهُمَا یعنی ان میں سے افضل وہی بات ہوتی ہے جس میں آسانی ہو۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۲۳۳) عنوان باب سے ظاہر ہے کہ امام بخاری کا رجحان اس طرف ہے کہ مشقت کی حالت میں مسافر کا روزہ رکھنا نیکی نہیں بلکہ منشائے شریعت کے خلاف ہے۔فقہاء کا یہ اختلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مصداق ہے کہ اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ۔(الأسرار) المرفوعة فى الأخبار الموضوعه، حرف الهمزة نمبر ۱۶۰) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا اس بارہ میں یہ بیان ہے کہ اگر مقیم ہونے کی حالت میں روزہ رکھا ہو اور پھر سفر پیش آجائے اور اُس دن اپنے گھر میں واپس آ جائے تو ایسا روزہ سفر میں رکھا جا سکتا ہے۔حضور فرماتے ہیں:۔"جو شخص سفر کرتا اور روزہ رکھتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے انعام کو رد کرتا ہے۔سفر کے متعلق میرا عقیدہ اور خیال یہی ہے۔ممکن ہے بعض فقہاء کو اس سے اختلاف ہو کہ جو سفر سحری کے بعد سے شروع ہو کر شام کو ختم ہو جائے ؛ وہ روزہ کے لحاظ سے سفر نہیں۔سفر میں روزہ رکھنے سے شریعت روکتی ہے مگر روزہ میں سفر کرنے سے نہیں روکتی۔پس جو سفر روزہ رکھنے کے بعد سے شروع ہو کر افطاری سے پہلے ختم ہو جائے ؛ وہ روزہ کے لحاظ سے سفر نہیں۔وہ روزہ میں سفر ہے، سفر میں روزہ نہیں۔“ خطبه جمعه فرموده ۱۸ ستمبر۱۹۴۲ء- مطبوعه روزنامه الفضل قادیان ۲۵ ستمبر ۱۹۴۲ صفحه ۳) دراصل اس میں وسعت ہے اور حالات کے مطابق اگر نیت بخیر ہو ، عمل کیا جا سکتا ہے۔اس مسئلہ کا استنباط آپ نے الفاظ مَنْ كَانَ عَلَى سَفَرٍ سے کیا ہے۔یعنی حرف ”علی“ سے مراد جو سفر کی حالت میں ہو تو وہ روزہ نہ رکھے۔مَنْ كَانَ عَلى سَفَرٍ یعنی سفر کی حالت میں رکھا ہوا روزہ۔نیز مسافر اگر مقیم ہو تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اجازت نہیں دی۔آپ فرماتے ہیں:۔” جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ رمضان میں روزہ رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض