صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 616
صحيح البخاری جلد۳ ۶۱۶ ٣٠ - كتاب الصوم سی روایت (نمبر ۱۹۴۵) سابقہ مضمون کے تعلق ہی میں ہے جس کی وجہ سے اس کا کوئی الگ عنوان نہیں مسلم کی روایت میں ہے کہ ہم رمضان میں جب سخت گرمی تھی نکلے (مسلم، کتاب الصیام، باب التخيير في الصوم والفطر في السفر) جبکہ ترمذی میں حضرت عمر کی روایت ہے کہ غزوہ بدر اور فتح مکہ کے لئے ہم رمضان میں نکلے۔(ترمذی، کتاب الصوم، باب ماجاء في الرخصة للمحارب فی الافطار) اس لحاظ سے مسلم کی روایت درست نہیں کیونکہ حضرت ابو دردانہ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے جب غزوہ بدر ہوا۔فتح مکہ بھی گرمی کے ایام میں ہوئی جبکہ رمضان کا مہینہ تھا۔محولہ بالا روایت میں حضرت ابن رواحہ کا ذکر ہے کہ صحابہ میں سے صرف وہی روزہ دار تھے۔یہ غزوہ موتہ میں شہید ہوئے جو فتح مکہ سے پہلے تھا۔اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ یہ کوئی اور سفر تھا اور روزہ فضلی تھا نہ کہ رمضان کا۔( فتح الباری جز به صفحه ۲۳۲ ۲۳۳) غرض اس باب میں بھی کمزور روایات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔مذکورہ بالا تینوں ابواب بطور تمہید ہیں۔بَاب ٣٦ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ ظُلِلَ عَلَيْهِ وَاشْتَدَّ الْحَرُّ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ ی ﷺ کا اس شخص کے لئے جس پر سایہ کیا گیا تھا جبکہ گرمی سخت تھی یہ فرمانا سفر میں روز ہ کوئی نیکی نہیں ١٩٤٦ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۱۹۴۶ آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔محمد بن عبدالرحمن انصاری الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے محمد بن عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِي عَنْ جَابِرٍ عمرو بن حسن بن علی سے سنا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ كَانَ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: رسول اللہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو آپ نے ایک جمگھٹا دیکھا اور ایک شخص کو جس پر سایہ کیا ہوا تھا۔سَفَرٍ فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِلَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوْا صَائِمٌ فَقَالَ آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو لوگوں نے کہا: ایک روزہ دار ہے۔آپ نے فرمایا: سفر میں روزہ کوئی لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ۔نیکی نہیں۔تشريح: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ: اس باب میں تصریح ہے کہ سرمیں روزہ رکھنا ایک نہیں۔نیکی اصل میں اطاعت میں ہے نہ مشقت نفس میں۔(اس تعلق میں دیکھئے کتاب الایمان تشریح باب ۳۲۲۹) اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کی سہولت دی ہے، اُس سہولت سے فائدہ اُٹھانا تقاضائے ادب ہے۔اس مسئلہ میں دو مذہب ہیں: ایک مذہب یہ کہ الفاظ لَيْسَ مِنَ الْبِر کا مفہوم ظاہری الفاظ پر محمول کیا جائے کہ سفر میں روزہ رکھنا گناہ ہے اور جہاد کی