صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 615
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۱۵ ٣٠ - كتاب الصوم فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيْدَ مکہ کے لئے نکلے تو آپ روزہ دار تھے یہاں تک کہ أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ قَالَ أَبُو عَبْدِ الله مقام گدید میں پہنچے تو روزہ افطار کیا اور لوگوں نے بھی وَالْكَدِيْدُ مَاءً بَيْنَ عُسْفَانَ وَقُدَيْدٍ۔ افطار کیا۔ ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: اور گدید عسفان اور قدید کے درمیان پانی ہے۔ اطرافه: ۱۹۴۸ ، ۲۹۵۳، ٤۲۷۵ ، ٤٢٧٦ ، ٤٢٧٧، ٤٢٧٨، ٤٢٧٩۔ باب ٣٥ ١٩٤٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۱۹۴۵ عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ بیان کیا کہ کي بن حمزہ نے ہمیں بتایا۔ عبدالرحمن بن الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ یزید بن جابر سے مروی ہے کہ اسماعیل بن عبید اللہ نے إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّ اُن سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ام در دال سے، الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ حضرت ام درداء نے حضرت ابو درداء رض رت ابو درداء رضی اللہ عنہ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: گرمی کے ایک دن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي يَوْمٍ في صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم آپ کے سفروں میں حَارٍ حَتَّى يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ سے ایک سفر میں نکلے۔ حالت یہ تھی کہ سخت گرمی کی مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا فِيْنَا صَائِمٌ إِلَّا مَا وجہ سے آدمی اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتا اور ہم میں کوئی كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بھی روزہ دار نہ تھا، سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وَابْنِ رَوَاحَةَ۔ حضرت ابن رواحہ کے۔ تشريح : إِذَا صَامَ أَيَّامًا مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ سَافَرَ : اس باب میں بھی ایک روایت کی کمزوری کی طرف neen اشارہ ہے۔ جس میں مذکور ہے کہ رمضان حالت اقامت میں شروع ہونا چاہے اور اگر رمضان کے روزے شروع کرنے کے بعد سفر میں جانا پڑے تو بحالت سفر روزے رکھے جائیں ۔ اس بارے میں آیت فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمُهُ (البقرة : ۱۸۲) سے بھی استدلال کیا گیا ہے اور اس آیت سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص رمضان کو بحالت اقامت ہو تو اُسے سارا مہینہ روزے رکھنا چاہیے۔ یہ استدلال کمزور ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے خلاف۔ (دیکھئے روایت ۱۹۴۴) تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۲۳۰۔