صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 47 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 47

صحيح البخاری جلد۳ ۴۷ ٢٤ - كتاب الزكاة جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ لَقَبِلْتُهَا مِنْكَ فَأَمَّا کہے گا: اگر تو کل لاتا تو میں تجھ سے اسے ضرور قبول الْيَوْمَ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيْهَا۔کر لیتا مگر آج مجھے اس کی حاجت نہیں۔اطرافه: ۱٤۱۱، ۷۱۲۰ تشریح : الصَّدَقَةُ بِالْيَمِينِ : انجیل میں بھی آتا ہے:- خبر دار اپنے راستبازی کے کام آدمیوں کے سامنے دکھانے کے لئے نہ کرو نہیں تو تمہارے باپ کے پاس جو آسمان پر ہے تمہارے لئے کچھ اجر نہیں بلکہ جب تو خیرات کرے تو جو تیرا داہنا ہاتھ کرتا ہے اُسے تیرا بایاں ہاتھ نہ جانے۔تا کہ تیری خیرات پوشیدہ رہے۔اس صورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دے گا۔(متی باب ۶ آیت ۱ تا ۵ ) مگر صدقہ کے بارے میں وہ تفصیلات جو قرآن مجید نے بیان فرمائی ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنہیں قولاً اور عملاً ہمارے لئے واضح کیا ہے وہ ہر پہلو سے کامل تعلیم پر بنی ہے۔ہر قسم کی عبادت میں اعلامیہ اور پوشیدہ دونوں صورتیں جاری کی گئی ہیں تا ظاہری عبادت سے لوگوں کے لئے تعلیم کا قابل تقلید نمونہ قائم ہو اور پوشیدہ عبادت سے خلوص عمل کی روح نشو ونما پاتی رہے۔مذکورہ بالا عنوان کی وضاحت کے لئے دور روایتیں لائی گئی ہیں۔روایت نمبر ۱۴۲۳ کا تعلق تو پوشیدہ صدقے سے ہے اور روایت نمبر ۴۲۴ اسے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ صحیح صدقہ وہ ہے جو برمحل اور تقاضائے حالات کے تحت ہو خواہ وہ ظاہر طریقہ سے ہو یا مخفی طریقہ سے۔لَا تَعْلَم شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ : لفظ يَمِيْن جیسا کہ باب ۸ میں بتایا جا چکا ہے اسی پر دلالت کرتا ہے۔حدیث کے اس فقرے سے کہ بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہو یہ مراد نہیں کہ قطعاً کسی کو علم نہ ہو یا صدقہ دینے والے کے نفس کو بھی احساس نہ ہو۔بلکہ نیکی بدی کا دارو مدار شعور و احساس ہی پر ہے۔اس غلط نہی سے محفوظ رکھنے کے لئے امام موصوف نے روایت نمبر ۱۴۲۳ ۱۴۲۴۶ کو ایک ہی عنوان کے تحت جمع کر دیا ہے۔غرض دونوں قسم کے صدقات میں حالات کا مد نظر رکھنا ضروری ہے۔وہی اس کی قدر و قیمت کم و بیش کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔روایت نمبر ۱۴۲۳ کی مزید وضاحت کے لیے دیکھئے کتاب الاذان روایت نمبر ۲۶۰۔