صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 613
صحيح البخاری جلد۳ ۶۱۳ ٣٠ - كتاب الصوم فَاجْدَحْ لِي قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ الشَّمْسُ (اس جگہ ) اتر و اور میرے لے ستو گھولو۔اُس نے کہا: قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ يا رسول الله ! سورج (ابھی ہے۔) آپ نے فرمایا: انتر و الشَّمْسُ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي فَنَزَلَ اور میرے لیے ستو گھولو۔اُس نے کہا: یارسول اللہ ! فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ هُنَا ثُمَّ سورج (ابھی ہے۔) آپ نے فرمایا: اتر و او ستوگھولو۔قَالَ إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا چنانچہ وہ اترا اور آپ کے لئے اُس نے ستو گھولے۔فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ۔تَابَعَهُ جَرِيْرٌ وَأَبُو آپ نے ہئے۔پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اس (یعنی مغرب کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: جب تم رات کو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الشَّيْبَانِي عَنِ ابْنِ دیکھو کہ وہ اس طرف سے آ گئی ہے تو پھر روزے دار أَبِي أَوْفَى قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ کی افطاری ہے۔جریر اور ابوبکر بن عیاش نے بھی سفیان بن عیینہ کی طرح ابوالحق ) شیبانی سے روایت بیان کی کہ حضرت ابن ابی اوفی سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: نبی عملے کے ساتھ میں ایک سفر میں تھا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ۔اطرافه ١٩٥٥، ۱۹٥٦، ۱۹۵۸، ۵۲۹۷ ١٩٤٢: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۹۴۲ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بچی نے ہمیں يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ بتایا۔ہشام بن عروہ) سے مروی ہے۔انہوں نے عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرِو الْأَسْلَمِيَّ کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔حضرت قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ۔عائشہ سے مروی ہے کہ حمزہ بن عمر و اسلمی نے کہا: اطرافه ١٩٤٣۔یا رسول اللہ ! میں لگا تار روزے رکھتا ہوں۔١٩٤٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۱۹۴۳: (اور ) عبداللہ بن یوسف (تنیسی ) نے ہم أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ حَمْزَةَ کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ ابْنَ عَمْرِو الْأَسْلَمِيَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى رضى اللہ عنہا سے روایت کی کہ حمزہ بن عمر و سلمی نے