صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 604
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۰۴ ٣٠ - كتاب الصوم سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَالشَّعْبِيُّ وَابْنُ بھی یہی کہا اور سعید بن مسیب، شعبی ، ابن جبیر، جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمُ وَقَتَادَةُ وَحَمَّادٌ يَقْضِي ابراہیم ، قتادہ اور حماد نے کہا: اُس کی جگہ ایک دن کا يَوْمًا مَكَانَهُ۔ روزہ رکھے۔ ١٩٣٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ۱۹۳۵ : عبداللہ بن منیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ حَدَّثَنَا يَحْيَى نے یزید بن ہارون سے سنا کہ یحی نے جو سعید کے هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ بیٹے ہیں ہمیں بتایا کہ عبدالرحمن بن قاسم نے انہیں الْقَاسِمِ أَخْبَرَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ خبر دی ۔ محمد بن جعفر بن زبیر بن عوام بن خویلد سے ابْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدِ عَنْ مروی ہے۔ انہوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ روایت کی۔ انہوں نے اُن کو بتایا کہ انہوں نے سے سنا۔ وہ کہتی سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ إِنَّ حضرت عائشہ رضی الله عنها ہ کہتی تھیں : رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک شخص بی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کرو فَقَالَ إِنَّهُ احْتَرَقَ قَالَ مَا لَكَ قَالَ جل گیا۔ آپ نے فرمایا: تجھے کیا ہوا؟ تو اُس نے کہا کہ رمضان میں میں نے ( روزہ کی حالت میں ) اپنی أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ بیوی سے صحبت کر لی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى ایک ٹوکری جسے عرق کہتے ہیں؛ لائی گئی تو آپ نے الْعَرَقَ فَقَالَ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ قَالَ أَنَا فرمایا: یہ جلنے والا کہاں ہے؟ اُس نے کہا: میں ہوں ۔ قَالَ تَصَدَّقْ بِهَذَا ۔ اطرافه: ٦٨٢٢۔ آپ نے فرمایا: یہ صدقہ دے دو۔ تشريح : إِذَا جَامَعَ فِي رَمَضَانَ : بحالت روزہ محرمات کے ارتکاب پر کفارہ وغیرہ کے دینے کے بارہ میں een- دو باب یکے بعد دیگرے قائم کئے گئے ہیں۔ سابقہ ابواب میں بھی بتایا گیا ہے کہ نسیان یا بغیر ارادہ و اختیار اگر کھانے پینے کی کوئی چیز حلق میں اُتر جائے تو روزہ باطل نہ ہوگا ۔ مگر عمداً خلاف ورزی کے بارہ میں فقہاء کے دو بڑے بڑے فریق ہیں۔ ایک فریق کی رائے ہے کہ عمداً خلاف ورزی کرنے والے کے گناہ کا ازالہ نہ صدقہ کر سکتا ہے اور نہ روزہ قضاء یعنی روزہ باطل ہو جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اگر روزہ رکھے تو مقبول نہیں ۔ دوسرے فریق کی رائے میں روزہ