صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 603
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۰۳ ٣٠ - كتاب الصوم وَمَاذَا بَقِيَ فِي فِيْهِ وَلَا يَمْضَعُ الْعِلْكَ نقصان نہیں ہوگا۔ اگر اُس نے اپنا تھوک اور جو اُس کے فَإِنِ ازْدَرَدَ رِيْقَ الْعِلْكِ لَا أَقُولُ إِنَّهُ من میں ہے نہ نگلا ہو اور مصطکی نہ نکلے۔ اگر مصطگی کا يُفْطِرُ وَلَكِنْ يُنْهَى عَنْهُ فَإِنِ اسْتَنْشَرَ تھوک نگل جائے تو میں نہیں کہتا کہ وہ غیر روزہ دار ہو جائے گا لیکن اس کی ممانعت ہے۔ اگر اُس نے پانی فَدَخَلَ الْمَاءُ حَلْقَهُ لَا بَأْسَ لَمْ يَمْلِكُ ۔ ڈال کر ناک صاف کی اور وہ پانی حلق میں داخل ہو گیا تو کوئی قباحت نہیں ( کیونکہ ) وہ بے اختیار ہے۔ تشريح : إِذَا تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْشِقُ بِمَنْخِرِهِ الْمَاءَ : اس باب میں مسائل غلو سے متعلق بعض حوالہ جات نقل کئے کئے گئے ہیں۔ جن کی تائید میں امام بخاری کو کوئی مستند روایت نہیں ملی۔ مثلاً بحالت روزہ ناک میں پانی لے اور وہ حلق میں چلا جائے۔ دوائی ڈالے اور اس کا اثر حلق تیک محسوس ہو یا خشکی محسوس ہونے پر کل کرے ہے یا معطلی وغیرہ چہائے اور تھوک نہ نکلے یا بغیر ارادہ حلق میں اس کا لعاب چلا جائے یا بحالت روزہ سرمہ کے استعمال کرے وغیرہ۔ ہے آیا ان باتوں سے روزہ فاسد ہو جائے گا یا نہیں؟ ایسے مسائل میں تکلف و غلو درست نہیں۔ محولہ بالا روایتیں عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ اور سعید بن منصور نے نقل کی ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ۴ صفحه ۲۰۵- عمدۃ القاری جزء اصفحه ۲۱) یہ باب سابقہ مضمون کے لئے بطور خاتمہ ہے۔ باب ۲۹ : إِذَا جَامَعَ فِي رَمَضَانَ جب رمضان میں کوئی مباشرت کرے وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ مَنْ أَفْطَرَ اور حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً مذکور ہے : رمضان يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ وَلَا میں جس نے کسی دن بغیر عذر اور بیماری کے روزہ مَرَضٌ لَمْ يَقْضِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِنْ چھوڑا ؛ عمر بھر کے روزے اُس کا بدل نہ ہوں گے خواہ صَامَهُ وَبِهِ قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ وَقَالَ وہ کتنے ہی روزے رکھے۔ حضرت ابن مسعودؓ نے لے مصطگی : ایک درخت کا خوشبودار گوند جس کا رنگ سفید زردی مائل شفاف اور مزے میں کسی قدر شیریں ہوتا ہے۔ مختلف امراض میں دوا کے طور پر مستعمل ہے۔ ( اردو لغت - مصطگی ) (مصنف عبد الرزاق، كتاب الصيام، باب المضمضمة للصائم، جز ۴ صفحه ۲۰۵) (مصنف عبد الرزاق، کتاب الصيام، باب العلك للصائم، جز ۴ صفحه ۲۰۳) (مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الصيام، باب من رخص فى الكحل للصائم، جز ۲۰ صفحه ۳۰۴)