صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 605 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 605

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۰۵ ٣٠ - كتاب الصوم حضرت A بطور قضاء رکھا جا سکتا ہے۔ عنوانِ باب میں اسی اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ فریق اول کے نقطہ نگاہ کی تائید میں رت ابو ہریرہ اور حضرت ابن مسعود کا فتو؟ رت سے ابن مسعود کا فتوی ہے اور دوسرے فریق کی تائید میں سعید بن مسیب اور شعبی کے سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی ، قتادہ ، حماد کے اقوال ہیں۔ مشارال - مشار اليها روايات على الترتيب اصحاب السنن، بیتی، ابن ابی ابی شیبہ اور عبدالرزاق سے منقول ہیں۔ سعید بن جبیر کے فتویٰ کے الفاظ یہ ہیں : يَسْتَغْفِرُ اللهَ مِنْ ذَلِكَ وَيَتُوبُ إِلَيْهِ وَيَقْضِي يَوْمًا مكانه۔ یعنی وہ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے اور اس کے حضور توبہ کرے اور ایسے روزہ کی جگہ ایک دن کا روزہ رکھے۔ شعمی کا فتوی بھی انہی معنوں میں ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ۴۲ صفحہ ۲۰۶ ، ۲۰۷۔ نیز عمدۃ القاری جزء ۱ اصفحه ۲۲) بعض فقہاء نے عمد ا خلاف ورزی پر یہ کفارہ تجویز کیا ہے کہ ایک غلام آزاد کیا جائے اور دو ماہ مسلسل روزے رکھے جائیں یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ۔ جیسا کہ اگلے ابواب میں اس کفارہ کا ذکر ہے۔ امام موصوف نے عنوان باب شرطیہ رکھ کر اس کا جواب حذف کر دیا ہے اور مفصل روایت میں سے متعلقہ حصہ ہی نقل کرنے پر اکتفا کی ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ عدم استطاعت کی صورت میں کوئی کفارہ نہیں۔ امام شافعی اور اکثر فقہاء کفارہ کی صورت میں روزہ رکھنا لازم نہیں سمجھتے لیکن امام ابو حنیفہ کے نزد یک روزے اور کفارہ دونوں لازم ہیں۔ اگر چہ امام بخاری نے مسئلہ کے متعلق اپنی رائے کھلے الفاظ میں ظاہر نہیں کی۔ لیکن اُن کے اسلوب سے پایا جاتا ہے کہ بچی ندامت اور توبہ ہی دراصل اس قسم کی کوتاہیوں کے لئے کفارہ ہیں۔ جب بچی ندامت دل میں پیدا ہوتی ہے تو پھر نادم اور تائب انسان صرف صدقات وصوم و صلوۃ پر ہی کفایت نہیں کرتا بلکہ ہر عمل میں نمایاں تغیر پیدا کر لیتا ہے۔ (ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء في الإفطار متعمدا) (ابوداؤد، کتاب الصوم، باب التغليظ فيمن أفطر عمدا) ابن ماجه، کتاب الصيام، باب ماجاء فى كفارة من أفطر يوما من رمضان) (السنن الكبرى للبيهقي، كتاب الصيام، باب التغليظ على من أفطر يوما۔۔۔۔۔۔ متعمدا من غير عذر، جزء ۴ صفحه ۲۲۸) ۲،۳، ۵ مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الصيام، باب ما قالوا في الرجل يفطر من رمضان يوما، جز ۲۶ صفحه ۳۴۷) مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الصيام، باب من كان يستحب أن يفطر على تمر او ماء، جز ۲۰ صفحه ۳۴۹) کے مصنف عبد الرزاق، کتاب الصيام، باب من يبطل الصيام ومن يأكل في رمضان متعمدا، جز ۴۶ صفحه ۱۹۶) (مصنف عبد الرزاق، کتاب الصيام، باب من يبطل الصيام ومن يأكل في رمضان متعمدا، جز ۴۶ صفحه ۱۹۷)