صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 600 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 600

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۰۰ ٣٠ - كتاب الصوم ۱۹۳۳ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا ۱۹۳۳ : عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ یزید بن زرایع يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا ابْنُ نے ہمیں خبر دی۔ ہشام ( بن حسان ) نے ہم سے بیان سِيْرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کیا ۔ ابن ابن سیرین نے ہمیں : انے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اگر کوئی بھول سے کھائے پئے تو چاہیے کہ وہ اپنا روزہ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ۔ اطرافة: ٦٦٦٩ پورا کرے کیونکہ اللہ نے ہی اُسے کھلایا اور پلایا ہے۔ تشريح : الصَّائِمُ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِیا بھول کر کھانے پینےسے روزہ باطل نہیں ہوتا۔ بھول چوک سے متعلق آنحضرت ﷺ کا صریح ارشاد ہے کہ قابل عفو ہے۔ اس تصریح کے باوجود بعض کی، با وجود بھی کی یہ رائے ہے ۔ که گووہ گنہگار نہیں ہوتا مگر بہتر ہے کہ روزہ دوبارہ رکھا جائے۔ جمہور اس رائے کے خلاف ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۱۹۸ تا ۲۰۱) اس باب میں ایسی ہی صورتوں سے متعلق بعض حوالے نقل کئے ہیں جن میں روزہ دار بے اختیار ہوتا ہے یا اُس کے عمل میں ارادہ کا دخل نہیں۔ سابقہ با ۔ سابقہ باب میں مذکورہ مسائل کی نوعیت بالکل اور ہے۔ یہ حوالہ جات مسند نوعیت بالکل اور ہے۔ یہ حوالہ جات مسند عبد الرزاق کے اور ابن ابی شیبہ میں مفصل منقول ہیں ۔ إِنْ جَامَعَ نَاسِيًا : ازدواجی تعلق میں بھول چوک نادر الوقوع ہے مگر تشریح میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کوئی فعل واقعہ میں بھی صادر ہوتا ہے یا نہیں بلکہ قانون کی مطلق صورت و شکل سے احتمالات کی بنا پر ہی بحث کی جاتی ہے۔ روزہ کے مسائل میں تینوں محرمات یعنی اکل و شرب و جماع کی ممانعت کا یکجا ذ کر کیا گیا ہے۔ باب ۲۷ : سِوَاكُ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ لِلصَّائِمِ روزه دار کا تازہ اور خشک مسواک کرنا وَيُذْكَرُ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ رَأَيْتُ اور حضرت عامر بن ربیعہ سے مذکور ہے کہ انہوں نے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ کہا: میں نے نبی ﷺ کو مسواک کرتے دیکھا اور آپ وَهُوَ صَائِمٌ مَا لَا أُحْصِيْ وَ لَا أَعُدُّ محمد روزہ دار تھے یا دیکھا کہ میں شمار نہیں کر سکتا۔ یا (کہا) ۳ (مصنف عبد الرزاق، كتاب الصيام، باب الرجل يتمضمض ويستنشق صائما فيدخل الماء جوفه ، جز ۲۰ صفحه ۱۷۴) (مصنف ابن ابی شیبه، کتاب الصيام، باب ما قالوا في الصائم يتوضأ فيدخل الماء حلقه، جزء ۲ صفحه ۳۲۲) عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ ”و“ کی بجائے ”آؤ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۱۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔