صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 599 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 599

صحيح البخاری جلد ٣ تشریح: ۵۹۹ ٣٠ - كتاب الصوم اِغْتِسَالُ الصَّائِم اس باب کے عنوان میں دس بارہ ایسے مسئلے نقل کئے گئے ہیں جو از قسم وہم ہیں یا غلو، یا جن میں سہولت اور وسعت نظر کا ذکر ہے۔یہودی اپنے روزوں میں جو مسلسل کئی دنوں کے ہوتے ؛ نہ تو نہاتے نہ لباس اور بدن کی صفائی کا خیال رکھتے بلکہ اپنی صورت و شکل ایسی بناتے تھے کہ جس سے اُن کا زہد یا تقویٰ نمایاں ہو۔اُن کی اس حالت ریا کاری کے پیش نظر حضرت مسیح علیہ السلام اپنے شاگردوں سے فرماتے ہیں:۔اور جب تم روزہ رکھو تو ریا کاروں کی طرح اپنی صورت اُداس نہ بناؤ کیونکہ وہ اپنا منہ بگاڑتے ہیں تا کہ لوگ اُن کو روزہ دار جائیں۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا آجر پاچکے۔بلکہ جب تو روزہ رکھے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور منہ دھو ، تا کہ آدمی نہیں بلکہ تیرا باپ جو پوشیدگی میں ہے، تجھے روزہ دار جانے۔اس صورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دے گا۔“ (متی باب ۶ آیت ۱۶ تا ۱۸) فیج اعوج کے زمانہ میں اس قوم کی ذہنیت پیدا ہوگئی تھی جس وجہ سے مسلمانوں میں ایسے مسائل پیدا ہو گئے تھے۔بحالت روزہ مسواک نہ کرنا کہ مبادا اس کا اثر گلے میں پہنچ کر روزہ باطل کر دے، غسل نہ کرنا مبادا روزہ کی مشقت میں کمی ہو، سر کے بال پراگندہ رکھنا، تیل نہ لگا نا کہ اس سے ظاہر زینت پیدا ہوتی ہے۔صحابہ کرام اور فقہاء نے ایسی فضول باتیں رڈ کر دی ہیں اور امام بخاری نے انہیں ایک عنوان کے تحت جمع کر کے ایسے مسائل کے بارہ میں کوئی روایت نقل نہیں کی اور اس تصرف کے ذریعہ سے ان باتوں کو نظر انداز کر دینا ظاہر کیا ہے۔عنوان باب میں مذکور حوالجات کی تفصیل کے لئے فتح الباری جز ۴ صفحہ ۱۹۶ تا ۱۹۸ د یکھئے۔بَاب ٢٦ : الصَّائِمُ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا روزہ دار جب بھول کر کھائے یا پئے وَقَالَ عَطَاءٌ إِنِ اسْتَنْثَرَ فَدَخَلَ الْمَاءُ اور عطاء نے کہا: اگر وہ ناک میں پانی ڈالے اور پانی في حَلْقِهِ لَا بَأْسَ إِنْ لَّمْ يَمْلِكُ وَقَالَ اُس کے حلق میں داخل ہو تو کوئی مضائقہ نہیں، اگر الْحَسَنُ إِنْ دَخَلَ حَلْقَهُ الذُّبَابُ فَلَا اُسے اختیار نہ ہو۔اور حسن نے کہا: اگر اُس کے حلق شَيْءَ عَلَيْهِ وَقَالَ الْحَسَنُ وَمُجَاهِدٌ إِنْ میں لکھی داخل ہو تو اُس پر کچھ نہیں۔حسن اور مجاہد نے جَامَعَ نَاسِيًا فَلَا شَيْءٍ عَلَيْهِ۔کہا: اگر بھول کر جماع کرے تو اُس پر بھی کچھ نہیں۔