صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 592 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 592

صحيح البخارى جلد ٣ ۵۹۲ ٣٠ - كتاب الصوم عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ابوبكر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے مجھے خبر دی أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَن أَخْبَرَ مَرْوَانَ أَنَّ کہ اُن کے باپ حضرت عبدالرحمن نے مروان کو بتایا کہ عَائِشَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَاهُ أَنَّ رَسُولَ حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ دونوں نے انہیں خبر اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُدْرِكُهُ دی کہ کبھی صبح ایسی حالت میں ہو جاتی کہ رسول اللہ ما ہے الْفَجْرُ وَهُوَ جُنبٌ مِنْ أَهْلِهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ اپنے اہل سے ( ازدواجی تعلق کی وجہ سے ) جنبی ہوتے۔وَيَصُوْمُ وَقَالَ مَرْوَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَن پھر آپ نہاتے۔آپ روزہ دار ہوتے اور مروان نے ابْنِ الْحَارِثِ أُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتَقَرِعَنَّ بِهَا عبد الرحمن بن حارث سے کہا کہ میں اللہ کی قسم تمہیں دیتا أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ ہوں کہ حضرت ابو ہریرہ کو یہ بات ٹھوک بجا کر سنا اور فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَكَرهَ ذَلِكَ عَبْدُ مروان ان دنوں مدینہ کے امیر تھے تو ابوبکر (بن عبدالرحمن) الرَّحْمَن ثُمَّ قُدِرَ لَنَا أَنْ تَجْتَمِعَ بِذِي نے کہا کہ حضرت عبدالرحمن نے یہ بات پسند نہ کی۔پھر الْحُلَيْفَةِ وَكَانَتْ لِأَبِي هُرَيْرَةَ هُنَالِكَ یوں مقدر ہوا کہ ہم ذوالحلیفہ میں اکٹھے ہوئے ؛ جہاں أَرْضٌ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ حضرت ابو ہریرہ کی ایک زمین تھی تو عبدالرحمن نے إِنِّي ذَاكِرٌ لَكَ أَمْرًا وَلَوْلَا مَرْوَانُ حضرت ابو ہریرہ سے کہا: میں آپ سے ایک بات کا ذکر کرتا ہوں اور اگر مروان نے مجھے اس کے لئے قسم نہ أَقْسَمَ عَلَيَّ فِيْهِ لَمْ أَذْكُرْهُ لَكَ فَذَكَرَ دی ہوتی تو میں آپ سے یہ ذکر نہ کرتا۔انہوں نے قَوْلَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ كَذَلِكَ حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کی بات کا ذکر کیا۔حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُنَّ أَعْلَمُ حضرت ابو ہریرہ نے کہا، فضل بن عباس نے بھی مجھے وَقَالَ هَمَّامٌ وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سے ایسا ہی بیان کیا ہے اور وہ بہتر جانتے ہیں اور أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہمام اور ابن عبداللہ بن عمر نے کہا: انہوں نے حضرت وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْفِطْرِ وَالْأَوَّلُ أَسْنَدُ۔ابوہریرہ سے یوں روایت کی کہ نبی سے روزہ چھوڑنے کا حکم دیتے تھے اور پہلی بات زیادہ مستند ہے۔اطراف الحدیث :۱۹۲۵: ۱۹۳۰، ۱۹۳۱ اطراف الحدیث ۱۹۲۶ ۱۹۳۲ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ ھو“ ہے۔(فتح الباری جزء ۲ حاشیہ صفحہ ۱۸۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔