صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 592
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۹۲ ٣٠ - كتاب الصوم عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ابو بكر بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشام نے مجھے خبر دی أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَ مَرْوَانَ أَنَّ کہ ان کے باپ حضرت عبد الرحمن نے مروان کو بتایا کہ عَائِشَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَاهُ أَنَّ رَسُوْلَ حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ دونوں نے انہیں خبر صلى الله عليه اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُدْرِكُهُ دی کہ بھی صبح ایسی حالت میں ہو جاتی کہ رسول اللہ ﷺ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبْ مِنْ أَهْلِهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ اپنے اہل سے (ازدواجی تعلق کی وجہ سے ) جنبی ہوتے۔ وَيَصُوْمُ وَقَالَ مَرْوَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ پھر آپ نہاتے ۔ آپ روزہ دار ہوتے اور مروان نے ابْنِ الْحَارِثِ أُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُقَرِّ عَنَّ بِهَا عبد الرحمن بن حارث سے کہا کہ میں اللہ کی قسم نہیں دیتا اللہ أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ ہوں کہ حضرت ابو ہریرہ کو یہ بات ٹھوک بجا کر سنا اور فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ مروان ان دنوں مدینہ کے امیر تھے تو ابوبکر بن عبد الرحمن) نے کہا کہ حضرت عبد الرحمن نے یہ بات پسند نہ کی ۔ پھر الرَّحْمَنِ ثُمَّ قُدِرَ لَنَا أَنْ نَّجْتَمِعَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَكَانَتْ لِأَبِي هُرَيْرَةَ هُنَالِكَ یوں مقدر ہوا کہ ہم ذو الحلیفہ میں اکٹھے ہوئے، جہاں حضرت ابوہریرہ کی ایک زمین تھی تو عبدالرحمن نے أَرْضٌ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ رم رقم إِنِّي ذَاكِرٌ لَكَ أَمْرًا وَلَوْلَا مَرْوَانُ حضرت ابو ہریرہ سے کہا: میں آپ سے ایک بات کا ذکر أَقْسَمَ عَلَيَّ فِيْهِ لَمْ أَذْكُرْهُ لَكَ فَذَكَرَ کرتا ہوں اور اگر مروان نے مجھے اس کے لئے قسم نہ دی ہوتی تو میں آپ سے یہ ذکر نہ کرتا۔ انہوں نے قَوْلَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ كَذَلِكَ حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کی بات کا ذکر کیا۔ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُنَّ أَعْلَمُ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: فضل بن عباس نے بھی مجھ وَقَالَ هَمَّامٌ وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ ☆ سے ایسا ہی بیان کیا ہے اور وہ بہتر جانتے ہیں ۔ اور أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ہمام اور ابن عبداللہ بن عمر نے کہا: انہوں نے حضرت وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْفِطْرِ وَالْأَوَّلُ أَسْنَدُ۔ اطراف الحدیث :۱۹۲۵: ۱۹۳۰، ۱۹۳۱۔ اطراف الحدیث ۱۹۲۶: ۱۹۳۲ صلى الله ابوہریرہ سے یوں روایت کی کہ نبی یہ روزہ چھوڑ نے کا حکم دیتے تھے اور پہلی بات زیادہ مستند ہے۔ ے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ ھو“ ہے۔ ( فتح الباری جز ۴۰ حاشیہ صفحہ ۱۸۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔