صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 593 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 593

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۹۳ ٣٠ - كتاب الصوم تشریح : الصَّائِمُ يُصْبِحُ جُنبا : اس باب کے عنوان سے ظاہر ہے کہ فجر کا وقت دراصل رات کے اوقات کا حصہ نہیں بلکہ دن ہے جو روزہ کے لئے مخصوص ہے۔ یہاں سے اب اُن باتوں کا ذکر ہوگا جن کا تعلق منہیات اور مکروہات سے ہے جو روزہ کو باطل کر دیتی ہیں۔ جن سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے۔ یہ ابواب نمبر ۳۷ تک ہیں۔ ان میں ضمناً ان مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو اختلافی ہیں یا جن میں غلو سے کام لیا گیا ہے۔ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ : اس سے مراد یہ نہیں کہ فجر ہونے پر نہانے کے بعد روزہ رکھے بلکہ یہ مراد ہے کہ نہانے کے بعد روزہ کی نیت کرلے اور اپنا روزہ پورا کرے۔ یعنی صبح ہو جانے پر حالت جنابت روزہ رکھنے سے مانع نہ ہوتی ۔ عنوان باب کا مفہوم یہ نہیں کہ روزہ دار ہمیشہ ایسی حالت میں ہی صبح اُٹھا کرے ۔ جیسا کہ اگلے باب میں حضرت عائشہ کا فتوی منقول ہے کہ روزہ دار کے لئے ازدواجی تعلق قائم کرنا قطعی طور پر ممنوع ہے۔ بعض وقت احتلام سے بھی حالت جنابت پیدا ہو جاتی ہے اور اگر سحری وقت پر کھا چکا ہو یا فجر ہونے سے پہلے ہی روزہ کی نیت کی گئی ہو تو احتلام سے روزہ باطل نہیں ہوتا ۔ ایسی حالت میں نہا کر روزہ جاری رہ سکتا ہے۔ روایت نمبر ۱۹۲۵- ۱۹۲۶ از سیر باب ۲۵ نمبر ۱۹۳۲۱۹۳۱ میں بھی دہرائی گئی ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ اختلاف کی صو لی صورت پیدا ہونے پر ضرور ا ہونے پر ضروری سمجھا گیا کہ یہ مسئلہ حل کرنے میں امہات المومنین کی طرف رجوع کیا جائے ۔ جیسا کہ صحابہ کرام نے بوقت ضرورت کیا۔ اس سے اُن کے غایت درجہ تقویٰ اور احتیاط کی حالت کا پتہ چلتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسائل شرعیہ کی وضاحت کرنے یا کرانے میں انہیں کوئی حجاب محسوس نہیں ہوتا تھا۔ حضرت عائشہ کے الفاظ ان كَانَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا ( نمبر ۱۹۳۱) سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کے قول سے جو اختلاف پیدا ہوا ہے اُس کا جواب دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس جملے کے یہ معنی ہیں کہ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح بحالت جنابت ہوتی تو آپ نہا کر روزہ کی نیت کر لیتے ۔ روزہ کے لئے یہ ہمیشہ ضروری نہیں کہ سحری ضرور کھائی جائے۔ 21 روایت نمبر ۱۹۲۵ - - ۱۹۲۶ کے آخر میں ہمام اور اور ابن ابن عبدالله عبداللہ بن عمر کی حضرت ابو ہریرہ سے روایتوں کا جو حوالہ دیا گیا ہے، پہلی روایت مسند احمد بن حنبل اور دوسری مصنف عبدالرزاق میں مروی ہے۔ دونوں کا مفہوم یہ ہے کہ بحالت جنابت اگر صبح ہو جائے تو روزہ دار کا روزہ قائم نہیں رہتا ۔ ( مسند احمد بن حنبل جزء ۲ صفحہ ۳۱۴ ) ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۱۸۶، ۱۸۷) امام موصوف نے عنوان میں اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا سوائے اس کے کہ یہ بتا دیا ہے کہ بحالت جنابت اگر صبح ہو جائے تو نہا کر روزہ رکھا جا سکتا ہے اور ضمنا یہ اشارہ بھی کیا ہے کہ بلحاظ سند حضرت عبدالرحمن کی روایت بہ نسبت حضرت ابو ہریرہ کی روایت کے زیادہ معتبر ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے حضرت عائشہ کا بیان رد نہیں کیا۔ البتہ ابن جریج کی روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے اپنے فتوی سے رجوع کر لیا تھا۔ (مسلم، کتاب الصيام، باب صحة صوم من طلع عليه الفجر وهو جنب)