صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 590 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 590

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۹۰ ٣٠ - كتاب الصوم باب ۲۱ : إِذَا نَوَى بِالنَّهَارِ صَوْمًا جب دن کے وقت روزے کی نیت کرے وَقَالَتْ أُمُّ الدَّرْدَاءِ كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ اور حضرت ام در داھ نے کہا: ابو درداء کہتے کہ تمہارے يَقُوْلُ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ فَإِنْ قُلْنَا لَا قَالَ پاس کچھ کھانا ہے؟ تو اگر ہم کہتے کہ نہیں تو کہتے : پھر فَإِنِّي صَائِمٌ يَوْمِي هَذَا وَفَعَلَهُ أَبُو میں آج کے دن روزہ دار ہوں۔ حضرت ابوطلحہ، طَلْحَةَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ حضرت ابو ہریرہ ، حضرت ابن عباس اور حضرت حذیفہ وَحُذَيْفَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ۔ رضی اللہ عنہم نے بھی ایسا ہی کیا۔ ١٩٢٤ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ۱۹۲۴ : ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ يزيد بن ابي عبيد ۔ عبید سے، یزید نے حضرت سلمہ بن اکوع الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا يُنَادِي فِي ایک شخص کو بھیجا کہ وہ لوگوں میں عاشورہ کے دن النَّاسِ يَوْمَ عَاشُوْرَاءَ إِنَّ مَنْ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ منادی کرے کہ جس نے کھایا ہو وہ روزہ پورا کرے یا أَوْ فَلْيَصُمْ وَمَنْ لَّمْ يَأْكُلْ فَلَا يَأْكُلْ فرمایا:) روزہ رکھے اور جس نے نہ کھایا ہو تو وہ بھی اطرافه: ٢٠٠٧، ٧٢٦٥۔ اس دن نہ کھائے ۔ تشریح : إِذَا نَوَى بِالنَّهَارِ صَوْمًا : یہ باب فقہاء کے ایک اختلاف کی وجہ سے قائم کیا گیا ہے سحری کھانے کے تعلق میں یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ آیا صحت روزہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ روزے کی نیت رات کے اوقات ہی میں کرے؟ عاشورہ کا روزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دن کو رکھوایا۔ اُن صحابہ سے بھی جنہوں نے کھایا تھا اور اُن سے بھی جنہوں نے نہیں کھایا۔ (روایت نمبر ۱۹۲۴) مگر یہ واقعہ رمضان سے متعلق احکام نازل ہونے سے قبل کا ہے۔ (دیکھئے باب (۱) واقعہ مذکورہ بالا سے چونکہ شرعی حکم مستنبط نہیں ہو سکتا۔ اس لئے عنوانِ باب استفہامیہ رکھ کر اس کا جواب محذوف کیا گیا ہے۔ امام مالک کے نزدیک رات کو نیت کرنا ضروری ہے، روزہ خواہ فرض ہو خواہ نفلی ۔ مگر جمہور کے نزدیک نفلی روزے میں روزے کی نیت رات گزرنے پر بھی کی جاسکتی ہے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک فرض روزہ میں بھی دن کو نیت کی جاسکتی ہے۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۳۰۳) اصحاب السنن نے ایسی روایتیں نقل کی ہیں جن میں آنحضرت مال کے ہے۔ عليه۔