صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 589 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 589

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۸۹ ٣٠ - كتاب الصوم عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ) رضی اللہ عنہ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فَوَاصَلَ النَّاسُ روایت کی کہ نبی ﷺ نے سحری کھانے کے بغیر روزے رکھے تو لوگوں نے بھی بغیر سحری کھائے روزے فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَنَهَاهُمْ قَالُوْا إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أَظَلَّ رکھے اور یہ ان ، اور یہ اُن پر شاق گزرا تو آپ نے انہیں منع أَطْعَمُ وَأَسْقَى۔ اطرافه: ١٩٦٢ کیا۔ انہوں نے کہا: آپ تو بغیر سحری کھائے روزے رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں۔ مجھے برابر کھلایا بھی جاتا ہے اور پلایا بھی جاتا ہے۔ ۱۹۲۳ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ۱۹۲۳ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا۔ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ عبدالعزیز بن صہیب نے ہم صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَخَّرُوْا فَإِنَّ فِي عليہ وسلم نے فرمایا: سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں السَّحُوْرِ بَرَكَةً۔ برکت ہے۔ تشريح : بَرَكَةُ السَّحُورِ مِنْ غَيْرِ إِنْجَابِ : مری کے قتل میں یہ آخری باب ہے۔ اگرکوئی بری نہ کھائے تو اُس کا روزہ ہوگا یا نہیں؟ كُلُوا وَاشْرَبُوا (البقرة: ۱۸۸) ارشاد باری تعالی فعل امر ہے جو وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ جمہور نے وصال کے روزہ سے یہ استدلال کیا ہے کہ یہ وجوب مندوب ہے یعنی پسندیدہ بات ہے۔ ضروری نہیں کہ سحری کھائے ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۰ صفحہ ۳۰۰) کیونکہ وصال کا روزہ آپ نے نا پسند فرمایا ہے۔ جس سے پایا جاتا ہے کہ ناپسندیدہ فعل کے بالمقابل جو فعل ہے یعنی سحری کھانا؛ وہ یقیناً پسندیدہ امر ہوگا۔ (دیکھئے روایت نمبر ۱۹۲۲) اور الفاظ فَلْيُوَاصِلُ حَتَّى السَّحَرِ ( روایت نمبر ۱۹۶۳) میں اجازت دی گئی ہے کہ سحری کے وقت تک ہی وصال کی صورت محدود ہونی چاہیے ۔ مذکورہ بالا باب میں سحری کھانے کی مشروعیت کا مضمون نہیں بلکہ اس کا تعلق صرف وجوب اور عدم وجوب سے ہے۔ اگر سحری کھانا ہر حالت میں واجب ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وصال کا روزہ نہ رکھتے۔ اس لئے ائمہ کا اجماع اس امر پر ہے کہ سحری کھانا مندوب یعنی مستحب ہے۔ آنحضرت ﷺ کے عمل نے صیغہ امر كُلُوا وَاشْرَبُوا اور عليه ۔ آپ کے ارشاد تَسَخَرُ وا نے اس جگہ کی نوعیت بالکل واضح کر دی ہے کہ یہ حکم مندوب ہے نہ کہ وجوب فرض ۔ سحری کھانے کی برکت اس امر سے ظاہر ہے کہ قوائے جسمانیہ جسمانیہ کو نقصان سان سے محفوظ رکھتا ہے اور اس سے کام کرنے کی طاقت قائم رہتی ہے۔ اس تعلق میں مزید باب ۸ ۴۸، ۴۹ دیکھئے۔ صلى الله