صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 586 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 586

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۸۶ ٣٠ - كتاب الصوم وسلم صلى الله باب ۱۷ : قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ لَا يَمْنَعَنَّكُمْ مِّنْ سَحُوْرِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکے ۱۹۱۹-۱۹۱۸: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ ۱۹۱۸-۱۹۱۹: عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان ابْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ کیا ۔ انہوں نے ابو اسامہ سے، ابواسامہ نے عبید اللہ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَالْقَاسِمِ بْنِ سے عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ اور مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ قاسم بن محمد سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ سے مروی ہے: حضرت بلال رات کو ہی اذان دے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا وَاشْرَبُوا دیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُوْمٍ فَإِنَّهُ لَا يُؤَذِّنُ کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ( عبدالله ) ابن ام مکتوم دیں کیونکہ وہ اُس وقت تک اذان نہیں دیتے حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ قَالَ الْقَاسِمُ وَلَمْ اذان دین جب تک فجر طلوع نہ کرے۔ قاسم نے کہا: اُن دونوں يَكُنْ بَيْنَ أَذَانِهِمَا إِلَّا أَنْ يَرْقَى ذَا کی اذان کے درمیان صرف اتنا ہی فرق ہوتا تھا کہ یہ وَيَنْزِلَ ذَا ۔ چھت پر چڑھے اور وہ اُترے۔ اطرافه ٦١٧ ، ٦٢٠ ٦٢٢، ٢٦٥٦ ، ٧٢٤٨۔ تشريح ۔ لَا يَمْتَعَنَّكُمْ مِنْ سَحُوْرِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ : حضرت بلال اور حضرت ابن ام مکتوم دونوں مؤذن تھے۔ ثانی الذکر چونکہ نابینا تھے؟ لوگوں کے بتانے پر کہ فجر ہوگئی ہے اذان دیتے۔ یہ دونوں صحابی مہاجرین اولین میں سے ہیں جبکہ حضرت عدی بن حاتم نے ان کے بہت بعد اسلام قبول کیا ہے۔ حضرت بلال سفیدی دیکھتے ہی اذان دینے کا شوق رکھتے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ میں حَتَّى يَتَبَيَّنَ ہے۔ یعنی پورے طور پر سفیدی نمایاں ہو جائے ۔ اس روایت سے بھی سحری کھانے کے وقت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ آج کل عرب مؤذن اذان دینے میں کافی وقت صرف کرتے ہیں اور حضرت بلال کی اذان تو اس لحاظ سے شہرت رکھتی ہے۔ والہانہ انداز میں اذان دیتے تھے اور حضرت ابن ام مکتوم چھت پر چڑھنے میں بوجہ معذوری کچھ دیر سے پہنچتے ہوں گے تو ظاہر ہے کہ یہ اذانیں پانچ سے دس منٹ کے اندر اندرختم ہو جاتی ہوں گی اور یہ اتنا وقت ہے کہ صبح کی تاریکی پوری۔ ی سفیدی میں بدل جاتی ہے۔ اس روایت سے امام بخاری ضمنا یہ بھی سمجھانا چاہتے ہیں کہ یہ خیال درست نہیں کہ حضرت عدی بن حاتم کی غلط نہیں پر مِنَ الْفَجْرِ کے الفاظ نازل ہوئے ورنہ اذانوں کے لئے دھاگے استعمال ہوتے جیسا کہ حضرت عدی بن حاتم نے کیا اور دونوں اذانوں کی وہ صورت نہ ہوتی جس کا ذکر روایت نمبر ۱۹۱۸-۱۹۱۹ میں ہوا ہے۔