صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 585 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 585

صحيح البخاری جلد۳ ۵۸۵ ٣٠ - كتاب الصوم نظر نہ آئے سحری کھائی جا سکتی ہے۔عام طور پر لوگ وہم سے کام لیتے ہیں اور بہت پہلے سحری کھا لیتے ہیں اور اسی طرح بوقت افطار رات کی تاریکی کا انتظار کرتے ہیں جو خلاف منشاء شریعت ہے۔ان چھ ابواب میں اسی وہم کا ازالہ کیا گیا ہے۔روایت نمبر ۱۹۱۶ میں حضرت عدی بن حاتم کی غلط فہمی کا ذکر ہے جو انہوں نے الْخَيْطُ سے دھاگہ سمجھا اور اُن کا ذہن استعارہ کی طرف نہیں گیا۔یہ صحابی نویں یا دسویں ہجری میں مسلمان ہوئے تھے اور بادہ نشین قبائل میں سے تھے۔(فتح الباری جز ہم صفحہ ۱۷۰) بعض شارحین کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے خط ابیض اور خیط اسود کا محاورہ اُن کے ہاں نہ ہو۔یہ خیال درست نہیں جیسا کہ امام ابن حجر نے زمانہ جاہلیت کے قدیم عرب شاعر ابوداؤ دا یادی کا حوالہ دیا ہے۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ لفظ حیط کا ان معنوں میں استعمال قریش میں موجود تھا۔وَلَمَّا تَبَدَتْ لَنَا مُدَفَةٌ وَلَاحَ مِنَ الصُّبْحِ خَيْطٌ آنَارَا (فتح الباری جزء ۲ صفحه ۱۷۳) (عمدۃ القاری جزء ۱۰ صفحه ۲۹۴) شرفہ کے معنی تاریکی اور روشنی۔یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔(لسان العرب - سدف ) یعنی جب رات میں روشنی ظاہر ہوئی اور صبح کی دھاری چمکی حضرت عدی کے بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت محولہ بالا پہلے نازل ہو چکی تھی کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اُن کا واقعہ سن کر فرمایا: إِنَّمَا ذَلِكَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبيَاضُ النَّهَارِ۔یہ نہیں ہوا کہ آنحضرت علام نے الفاظ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ کے نزول کا انتظار فرمایا کہ وحی ربانی کی تصریح کے بعد حضرت عدی کو جواب دیں؛ جیسا کہ بعض مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ مِنَ اللَّيْلِ کا جملہ بعد میں بطور وضاحت نازل ہوا اور یہ غلط نہی روایت نمبر ۱۹۱۷ کے الفاظ سے پیدا ہوئی ہے۔حضرت عدی بن حاتم کی روایت سے دو باتیں واضح ہیں۔ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فی البدیہ تصریح۔ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اُن سے مزا حا فرمايا: إِنَّ وِسَادَكَ إِذًا لَعَرِيضُ۔روایت نمبر ۴۵۰۹) کہ تمہارا تکیہ بہت لمبا چوڑا ہے جس نے دونوں افقوں کو اپنے نیچے لپیٹا ہوا ہے۔بعض دوسری روایتوں میں یہ الفاظ ہیں: إِنَّكَ لَعَرِيضُ القفا۔(بخاری کتاب تفسیر القرآن روایت نمبر ۴۵۱۰) یعنی تمہاری گدی وسیع ہے۔دوسری بات جو ان کی روایت سے ظاہر ہے ، وہ لفظ نَزَلَت کے مفہوم کا تعین ہے کہ اُس سے مراد تطبیق و تشریح ہے کیونکہ رمضان کے احکام کا نزول یقینی طور پر سورۃ البقرہ میں بہت پہلے ہو چکا تھا اور صحابہ کرام سفیدی کو دیکھ کر سحری کھانے سے رُک جاتے تھے۔یہ خیال کہ رمضان سے متعلق آیات بعد میں نازل ہوئی ہوں گی ، محققین کے نزدیک بہت دُور کا خیال ہے۔چنانچہ علامہ ابن حجر نے اس خیال کی غلطی بدلائل ثابت کی ہے۔(فتح الباری جز پہ صفحہ اے ۱ تا ۱۷۴) امام بخاری نے دونوں روایتوں کا مفہوم واضح کرنے کے لئے ایک لطیف تصرف سے کام لیا ہے اور وہ یہ کہ عنوان باب میں حضرت براء بن عازب کی روایت کا حوالہ دیا ہے جو نمبر ۱۹۱۵ میں ابھی گذر چکی ہے۔اس سے بھی نَزَلَتْ کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔کیونکہ مذکورہ بالا آیت کے دونوں حصوں کی تشریح و تطبیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے بوقت نزول ہو چکی تھی۔امام بخاری نے عنوانِ باب میں حضرت براء بن عازب کی روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آیت محولہ بالا کے دونوں حصوں کا نزول ابتداء ہی میں ہو چکا تھا اور لفظ نزول کا استعمال بمعنے وضاحت و تطبیق سابقہ فقہاء نے بھی تسلیم کیا ہے۔(دیکھئے فتح الباری جز ۴ صفحه ۱۷۲-۱۷۳)