صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 587 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 587

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۸۷ ٣٠ - كتاب الصوم ☆ بَاب ۱۸: تَعْجِيْلُ السَّحُوْرِ سحری کھانے میں دیر کرنا کی ۱۹۲۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ ۱۹۲۰ : محمد بن عبید اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ اللهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عبد العزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ أَبِيْهِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ اپنے باپ ابو حازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَتَسَخَّرُ فِي سعد رضی اللہ عنہ سے اللہ عنہ سے روایت کی ۔ روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ أَهْلِي ثُمَّ تَكُونُ سُرْعَتِي أَنْ أُدْرِكَ میں اپنے گھر والوں میں سحری کھایا کرتا تھا تو پھر مجھے السُّجُوْدَ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله جلدی ہوتی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافه ٥٧٧ ساتھ صبح کی نماز پاؤں۔ تشریح : تَعْجِيلُ السَّحُورِ : صحیح بخاری کے بعض نحو : نسخوں میں دی میں عنوان باب بجائے لفظ تعجیل - تأخیر ہے۔ علامہ ابن حجر نے اپنی شرح میں لفظ تعجیل یعنی جلدی کرنا اختیار کیا ہے اور علامہ عینی نے تاخیر یعنی دیر کرنا اور روایت محولہ بالا میں لفظ السجود کی بجائے کشمیینی اور نفی کے نسخوں میں اَلسَّحُور ہے جو علامہ ابن حجر کے نزدیک کتابت کی غلطی ہے۔ دراصل لفظ السجو د ہے جیسا کہ جمہور کا قول ہے ۔ ( فتح الباری جزء ۲۴ صفحه ۱۷۶) (عمدۃ القاری جزء اصفحه ۲۹۸) یہ روایت نمبر ۷ ۵۷ میں گذر چکی ہے۔ اُس میں یہ الفاظ ہیں : اَنْ اُدْرِكَ صَلَاةَ الْفَجْرِ یعنی میں فجر کی نماز کو پالوں ۔ لفظ السجود کا بھی یہی مفہوم ہے۔ یہ کتابت کی غلطی کا احتمال قابل قبول ہو سکتا ہے مگر امام بخاری جیسے محقق اور حسن انتخاب میں ما ہر شخصیت کا اس روایت کی وہ سند یہاں اختیار کرنا جس میں اَلسَّحُورُ ہے بتاتا ہے کہ یہ لفظ غلط نہیں بلکہ درست ہے۔ کیونکہ یہاں یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ سحری اور نمازِ فجر میں اتنا کا اتنا کم فاصلہ ہوتا ہے کہ صحابہ جلدی جلدی سحری کھاتے کم فاص تا نماز با جماعت ان سے نہ رہ جائے۔ چنانچہ اس بارہ میں ابن منیر کی رائے بھی یہی ہے۔ ( فتح الباری جزء ہم صفحہ ۱۷۷) صحیح بخاری کے جن نسخوں میں عنوان تَأْخِيرُ السَّحُور ہے وہ بھی درست ہے۔ اس روایت سے بھی اُن لوگوں کی غلطی ظاہر ہے جو اذان سے بہت پہلے سحری کھا کر فارغ ہو جاتے ۔ تُعْجِيلُ السَّحُور کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ سحری سے بہت جلد فارغ ہونا پسندیدہ ہے بلکہ پسندیدہ امر یہی ہے کہ اخیر وقت میں سحری کھائی جائے ۔ امام موصوف کی نظر بلیغ کے تعلق میں ملاحظہ ہو کتاب مواقيت الصلوۃ تشریح باب ۷۔ مغلطائی کے نزدیک بخاری میں اس جگہ تَأْخِيرُ السَّحُور کے الفاظ ہیں ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۱۷۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے