صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 579 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 579

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۷۹ ٣٠ - كتاب الصوم صلى الله تشريح : لَا نَكْتَبُ وَلَا نَحْسُبُ : آنحضرت ﷺ نے فرمایا: الدين يسر ۔ ( کتاب الایمان باب ۲۹) -------- سواسی اصل کے مطابق رویت ہلال سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آسان طریق اختیار کرنے کا ارشاد فرمایا ہے اور اس کی وجہ بہ وجہ یہ بتائی ہے کہ عرب اُس زمانہ میں عام طور پر علم حساب اور لکھنے پڑھنے سے نابلد تھے اور بوجہ ارشاد باری تعالٰى وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ۔ (ص: ۸۷ ) کسی تکلف سے کام لینا مناسب نہیں۔ آجکل بعض حضرات کا ہوائی جہاز پر سوار ہو کر ہلال کی جستجو کرنا تعجب انگیز ہے اور ارشاد نبوی کے منافی ۔ مذکورہ بالا ارشاد نبوی سے یہ اخذ کرنا درست نہیں کہ لکھنے پڑھنے اور علوم ریاضی کے سیکھنے کی ہمیں ضرورت نہیں۔ ایسا استدلال دوسری جہت میں غلو ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی تو فرمایا ہے : اطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّيِّنِ ( شعب الإيمان، السابع عشر من شعب الإيمان، باب في طلب العلم، الجزء الثاني) یعنی علم طلب کرو خواہ چین میں ۔ پھر فرمایا ہے: الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ۔ (ترمذى، كتاب العلم، باب ما جاء في فضل الفقه) حکمت مومن کی کھوئی ہوئی چیز ہے جہاں اُسے پائے ؛ لے لے۔ پس اس قسم کی رکیک تاویلیں کرنا دین سے مذاق ہے۔ بَاب ١٤ : لَا يُتَقَدَّمُ رَمَضَانُ بِصَوْمٍ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ رمضان سے پہلے روزہ نہ رکھا جائے ، نہ ایک دن نہ دو دن ١٩١٤ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۱۹۱۴ مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي ہشام نے ہمیں بتایا۔ یحی بن ابی کثیر نے ہم سے كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بیان کیا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ صلى اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: تم رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ إِلَّا أَنْ میں سے کوئی رمضان سے پہلے ایک دن یا دو دن روزہ يَكُوْنَ رَجُلٌ كَانَ يَصُوْمُ صَوْمَهُ نہ رکھے، سوائے اُس شخص کے جو اُن دنوں میں روزہ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ۔ رکھنے کا خوگر ہو۔ چاہیے کہ وہ اُس دن روزہ رکھ لے۔ تشريح : لَا يُتَقَدَّمُ رَمَضَانُ بِصَوْمٍ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَینِ مسلم عنونہ میں جہور نے یہ رائے ظاہرکی ہے کہ ارشاد نبوی کا تعلق احتیاط سے ہے فقہاء میں سے بعض نے مطلق جواز کا فتوی دیا ہے ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۱۶۵) -------- مگر رمضان کے روزوں کو جو فرض ہیں ممتاز رکھنا اس لئے ضروری ہے کہ اس بارہ میں ارشاد نبوی تصریح ہے اور اس لئے بھی