صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 580
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۸۰ ٣٠ - كتاب الصوم کہ ایک عمل جس کا انسان عادی ہو جاتا ہے، وہ اپنی نیت وارادہ میں قوت بوجہ عادت کھو بیٹھتا ہے جو ثواب عمل کے لئے ضروری ہے۔ عادت میں انسان کا فعل ایک طبعی صورت اختیار کر لیتا ہے جس کے صادر ہونے میں کسی جدوجہد کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ رمضان ایک روحانی مجاہدہ ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ امام بخاری نے ابواب قائم کرنے میں خاص ترتیب ملحوظ رکھی ہے۔ رؤیت ہلال کے تعلق میں یہ باب بطور وقفہ ہے۔ اس کے بعد نئی آیت لا کر صیام رمضان سے متعلقہ احکام شروع کئے گئے ہیں۔ بَاب ١٥ : قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ من وَعَفَا عَنْكُمْ ۚ فَالْنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ ۔۔ (البقرة: ۱۸۸) الله عز وجل کا فرمانا: روزوں کی راتوں میں تمہارا اپنی بیویوں کے پاس جانا جائز کیا گیا ہے۔ وہ تمہارا لباس ہیں اور تم اُن کا لباس ہو۔ اللہ کو علم ہے کہ تم اپنے نفسوں کی خیانت کرتے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم کیا ہے اور تم سے در گزر کیا ہے۔ پس اب تم ان سے مباشرت کرو اور اللہ نے جو تمہارے لئے لکھا ہے اُسے چاہو۔ ١٩١٥: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ ۱۹۱۵ عبید اللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحاق عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ سے، ابو اسحاق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی، کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا فَحَضَرَ سے جب کوئی شخص روزہ دار ہوتا اور افطار کا وقت آجاتا الْإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ لَمْ يَأْكُلْ اور وہ افطار سے پہلے سو جاتا تو وہ نہ اُس رات میں لَيْلَتَهُ وَلَا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنَّ قَيْسَ کچھ کھاتا اور نہ دوسرے دن ؛ یہاں تک کہ اسے شام ابْنَ صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ صَائِمًا فَلَمَّا ہو جاتی اور حضرت قیس بن صرمہ انصاری روزہ دار تھے۔ حَضَرَ الْإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ فَقَالَ لَهَا جب افطار کا وقت ہوا تو اپنی بیوی کے پاس آئے تو أَعِنْدَكِ طَعَامٌ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ انہوں نے اُس سے کہا: کیا تیرے پاس کھانا ہے؟