صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 578
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۷۸ ٣٠ - كتاب الصوم تو تشریح : شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقَصَانِ : روی مہینہ انہی کا ہو وہ ناقص نہیں کہلا ہلائے گا۔ دوران قمری کے حساب سے وہ اتنے ہی دنوں کا ہوتا ہے۔ عنوان باب میں اسحاق بن راہویہ اور محمد بن اسماعیل یعنی امام بخاری کی اپنی رائے کا جو حوالہ دیا گیا ، اس سے وہ اختلاف حل کرنا مقصود ہے جو حدیث شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ کے مفہوم میں فقہاء کے درمیان ہوا ہے۔ اُن میں سے ایک فریق کا خیال ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ رمضان اور ذوالج دونوں تیں تھیں دن کے ہیں جو درست نہیں کیونکہ اگر رمضان پورے تمھیں دن کا ہو تو پھر وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ (البقرة : ۱۸۶) کا ارشاد بے ضرورت ہے۔ اسحاق بن راہویہ نے جو بڑے پایہ کے عالم ہیں ، اس کی یہ تاویل کی ہے کہ بلحاظ فضیلت اور ثواب عمل رمضان اور حج دونوں برابر ہیں قطع نظر اس کے کہ وہ انتیس دن کے ہوں یا تیس دن کے اور دونوں مہینوں کی عید منائی جاتی ہے۔ اس جملہ کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ ایک ہی سال میں دونوں کم نہیں ہوتے ۔ یعنی اگر ایک مہینہ انتیس دن کا ہو تو دوسرا تمھیں کا : کا ہوتا ہے۔ علامہ علامہ عینی کے نزدیک اسحاق سے مراد ابن سوید ہیں ۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحه ۲۸۳) مگر دونوں کو ایک خیال کا تو ارد ہو سکتا ہے اور اس بارے میں علامہ ابن حجر کی تحقیق ہی درست ہے۔ نیز مغانی کے نسخہ کتاب بخاری میں یہ الفاظ موجود ہیں : قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِسْحَقُ تِسْعَةً وَعِشْرُونَ يَوْمًا تَامٌ ۔ یعنی ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: اسحاق نے کہا کہ انتیس دن بھی مکمل ہوتے ہیں۔ مزید برآں احمد بن حنبل کا قول اس کا مؤید ہے۔ اُن کے الفاظ یہ ہیں : إِنْ نَقَصَ رَمَضَانُ لَمَّ ذُو الْحَجَّةِ وَإِنْ نَّقَصَ ذُو الْحَجَّةِ ثُمَّ رَمَضَانُ ۔ یہ کی آپس کی نسبت سے ہے ورنہ ان میں سے ہر ایک مہینہ پورا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۱۶۰، ۱۶۱) بَاب ۱۳ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا : نہ ہم لکھنا جانتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں ۱۹۱۳ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۱۹۱۳ : آدم ( بن ابی ایاس ) نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اسود بن قیس نے ہم سے بیان ابْنُ عَمْرٍو أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ کیا ۔ سعید بن عمرو نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابن عمر رضی اللہ عنہا سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا سے روایت کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ہم اُمی لوگ نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي ہیں۔ نہ ہم لکھنا جانتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں ۔ مَرَّةً تِسْعَةً وَعِشْرِيْنَ وَمَرَّةً ثَلَاثِينَ۔ انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مہینہ اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔ کبھی اُنتیس اور کبھی تمہیں کا۔ اطرافه ۱۹۰۰، ۱۹۰۶، ۱۹۰۷، ۱۹۰۸، ۵۳۰۲۔