صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 577
صحيح البخاری جلد ٣ ۵۷۷ ٣٠ - كتاب الصوم باب ۱۲ : شَهْرَا عِيْدٍ لَا يَنْقُصَانِ عید کے دونوں مہینے کم و بیش ہوتے ہیں قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ إِسْحَاقُ وَإِنْ ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا کہ اسحاق بن راہویہ ) كَانَ نَاقِصًا فَهُوَ تَمَامٌ وَقَالَ مُحَمَّدٌ لَا نے کہا کہ اگر تمہیں دن سے ) کم ہو تو وہ پورا ہی ہوگا۔يَجْتَمَعَانِ كِلَاهُمَا نَاقِصٌ۔اور محمد بن سیرین) نے کہا: اُن دونوں مہینوں سے ایک ناقص ہوگا۔۱۹۱۲: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۹۱۲ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں قَالَ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ عَنْ بتایا۔انہوں نے کہا کہ میں نے اسحاق (بن سوید ) سے سنا۔انہوں نے عبد الرحمن بن ابی بکرہ سے، مُعْتَمِرٌ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ عبدالرحمن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی أَبِيْهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔وَحَدَّثَنِي مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ نیز مسدد نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں عَبْدُ بتایا۔خالد حذاء سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: خَالِدٍ الْحَذَّاءِ قَالَ أَخْبَرَنِي عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے مجھے خبر دی۔انہوں نے الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اپنے باپ (حضرت ابو بکرہ ) رضی اللہ عنہ سے، اُن کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ وَسَلَّمَ قَالَ شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ شَهْرَا آپ نے فرمایا: دو مہینے (بلحاظ ثواب) ناقص نہیں عِيْدِ رَمَضَانُ وَذُو الْحَجَّةِ۔ہوتے۔رمضان کی عید کا مہینہ اور ذوالحج کا مہینہ۔{قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ { * ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: احمد بن حنبل حَنْبَلٍ إِنْ نَّقَصَ رَمَضَانُ تَمَّ ذُو الْحَجَّةِ نے کہا: اگر رمضان ( تمہیں دن سے ) کم ہو تو ذوالحجہ وَإِنْ نَّقَصَ ذُو الْحَجَّةِ تَمَّ رَمَضَانُ (تمیں دن کا) پورا ہوگا اور اگر ذوالحجہ (تمیں دن سے ) وَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ كَانَ إِسْحَاقُ بْنُ کم ہو تو رمضان پورا ہوگا اور ابوالحسن نے کہا کہ اسحاق رَاهْوَيْهِ يَقُولُ لَا يَنْقُصَانِ فِي الْفَضِيْلَةِ بن راہویہ کہا کرتے تھے کہ وہ دونوں فضیلت میں کم إِنْ كَانَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثِينَ } نہیں ہوتے خواہ انتیس دن کے ہوں یا تئیں کے۔} یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۴ حاشیہ صفحہ ۱۶۰)