صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 576
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۷۶ ٣٠ - كتاب الصوم روایت نمبر ۱۹۱۱،۱۹۱۰ میں انتیس دن تک ازواج سے علیحدہ رہنے کا جو ذکر ہے وہ واقعہ ایلا ہے۔ اس کی تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر صغیر سوره احزاب آیت ۵۳٬۵۲۔ رؤیت ہلال کے تعلق میں مخالفین اسلام اعتراض کرتے ہیں کہ یہ طریق غیر علمی ہے اور کسی تعیین حساب پر مبنی نہیں لیکن معترضین بھول گئے ہیں کہ علمی حساب سے استفادہ محدود طبقہ کر سکتا ہے۔ ہر خاص و عام فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ بیابان ، پہاڑ اور جنگل کے رہنے رہنے وا والے بھی رویت ہلال سے اوقات فات کا کا علم علم حاص حاصل کر سکتے ہیں اور اسلامی تعلیم سہولت ، پر مبنی ہے اور بحرو بر میں مقیم و مسافر بھی رؤیت ہلال سے معلوم کر سکتے ہیں کہ رمضان کب سے شروع ہوتا ہے اور کب ختم ۔ اسی اعتراض کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت لطیف انداز میں دیا ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں:۔ ۔۔۔ یہ سچ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے احکام دین سهل و آسان کرنے کی غرض سے عوام الناس کو صاف اور سیدھا راہ بتلایا ہے اور ناحق کی دقتوں اور پیچیدہ باتوں میں نہیں ڈالا ۔ مثلاً روزہ رکھنے کے لیے یہ حکم نہیں دیا کہ تم جب تک قواعد ظنیہ نجوم کے رو سے یہ معلوم نہ کرو کہ چاند انتیس کا ہوگا یا تیس کا تب تک رؤیت کا ہرگز اعتبار نہ کرو۔ اور آنکھیں بند رکھو۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ خواہ نخواہ اعمال دقیقہ نجوم کو عوام الناس کے گلے کا ہار بنانا یہ ناحق کا حرج اور تکلیف مالا يطاق ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسے حسابوں کے لگانے میں بہت سی غلطیاں واقع ہوتی رہتی ہیں۔ سو یہ بڑی سیدھی بات اور عوام کے مناسب حال ہے کہ وہ لوگ محتاج منجم و ہیئت دان نہ رہیں اور چاند کے معلوم کرنے میں کہ کس تاریخ نکلتا ہے اپنی رؤیت پر مدار رکھیں ۔ صرف علمی طور پر اتنا سمجھ رکھیں کہ تھیں کے عدد سے تجاوز نہ کریں۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقت میں عند العقل رؤیت کو قیاسات ریاضیہ پر فوقیت ہے۔ آخر حکماء یورپ نے بھی جب رؤیت کو زیادہ معتبر سمجھا تو اس نیک خیال کی وجہ سے بتائید قوت باصرہ طرح طرح کے آلات دور بینی و خورد بینی ایجاد کیے ۔ سو مکر رہم لکھتے ہیں کہ ذرا آنکھ کھول کر دیکھو کہ رؤیت میں کیا کیا برکات ہیں اور انجام کار کیا کیا نیک نتائج اس سے نکلتے ہیں ۔ سرمه چشم آریہ - روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۹۲ ۱۹۳)