صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 575
صحيح البخاري - جلد ۳ ۵۷۵ ٣٠ - كتاب الصوم فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِيْنَ لَيْلَةً ثُمَّ پاؤں میں موچ آگئی تھی اور آپ ایک بالا خانہ میں نَزَلَ فَقَالُوا يَا رَسُوْلَ اللهِ آلَيْتَ شَهْرًا اُنتیس راتیں رہے۔پھر اُترے تو لوگوں نے کہا: فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا يا رسول اللہ ! ایک مہینہ بھر کی آپ نے قسم کھائی تھی تو آپ نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔وَعِشْرِيْنَ۔اطرافه ۳۷۸، ۶۸۹، ۷۳۲، ۷۳۳۸ ، ۸۰۵، ۱۱۱٤، ۲٤٦۹، ٥۲۰۱ ٥٢٨٩، ٦٦٨٤ تشریح: قائم کیے گئے ہیں۔اس باب (نمبر1) میں چھ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔جن میں ہلال رمضان د یکھ کر روزہ رکھنے کا ارشاد ہے اور مہینہ کے دنوں کی تعداد کا بھی ذکر ہے جو کبھی میں دن کا اور کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے اور یہ ذکر بھی ہے کہ بادل وغیرہ سے ہلال نظر نہ آئے اور شبہ کا امکان ہو تو اندازہ سے کام لیا جائے جو آج کل علم فلکیات اور علم حساب کی رُو سے زیادہ صحت وضبط پر مبنی ہے۔جس سے شک وشبہ کا امکان بہت ہی کم ہوتا ہے۔اس صورت میں وہم سے کام لینا مناسب نہیں۔عنوانِ باب میں صلہ کی روایت کا جو حوالہ دیا گیا ہے ؛ وہ بھی اسی غرض سے ہے۔اس بارہ میں متعدد اقوال ہیں جن سے درج ذیل مفاہیم اخذ ہوتے ہیں: (۱) مشتبہ دن کا روزہ نہ رکھا جائے۔اگر رکھا جائے گا تو وہ روزہ فرض نہیں نفل ہوگا۔(۲) ایسا روزہ فرض کا قائمقام ہو سکتا ہے۔(۳) صرف اُس شخص کے لئے یہ روزہ بطور فرض شمار ہوگا جس نے حساب کی بنا پر اندازہ کر کے روزہ رکھا ہو اور حساب غلط ثابت ہو۔(۴) احتمال کی صورت میں ہر شخص پر روزہ رکھنا جائز ہے۔(۵) روزہ قطعا نہ رکھا جائے۔یہ مذہب کہ مشکوک دن میں روزہ بطور نفل رکھا جا سکتا ہے جو رمضان کے روزے کا قائمقام نہیں ہو گا ؟ امام ابو حنیفہ، امام احمد اور امام مالک کا ہے۔اس بارہ میں امام بخاری کا رجحان اس طرف معلوم ہوتا ہے کہ شک پر عمل کی بنیاد نہیں رکھنی چاہیے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۷۹) إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوْا : مذکورہ بالا مقاصد بیان کرنے کے بعد ماہ رمضان کی ابتداء اور انتہاء کی تعیین تخصیص سے متعلق تین باب ( نمبر ۱۲۰۱۱ ۱۳۰) یکے بعد دیگرے ( مَنْ صَامَ يَوْمَ الشَّرِّ فَقَدْ عَصَى اَبَا الْقَاسَمِ الله : باب نمبرا کے عنوان میں صلہ بن زفر کی سند سے حضرت عمار بن یاسر کی روایت کا حوالہ دیا ہے۔یہ صلہ بن زفر اہل کوفہ کے فقہاء میں سے ایک بڑے فقیہہ اور تابعی تھے۔ابوداؤں، ترندگی اور نسائی ہمہ وغیرہ نے ان سے محولہ بالا روایت نقل کی ہے۔(فتح الباری جز په صفحه ۱۵۵) (عمدۃ القاری جزء ، صفحہ ۲۷۹) اس حوالے سے اس قدر اشارہ کرنا مقصود ہے کہ مشکوک دن کا روزہ رکھا جائے کیونکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہلال دیکھنے یا اندازہ کرنے کی تصریح ہے۔(ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء في كراهية صوم يوم الشك (نسائی، کتاب الصیام، باب صيام يوم الشک) (ابوداؤد، کتاب الصوم، باب كراهية صوم يوم الشك