صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 574 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 574

صحيح البخاري - جلد ۳ ۵۷۴ ٣٠ - كتاب الصوم اهُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ قَالَ أَبُو رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُوْمُوا نے فرمایا، یا کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُسے دیکھ کر روزہ رکھو اور اُسے دیکھ کر افطار کرو اور اگر ابر کی وجہ سے تمہیں نظر نہ آئے تو شعبان کے تمھیں لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوْا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُبَى عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوْا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِيْنَ۔دن کی گنتی پوری کرلو۔۱۹۱۰ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ ۱۹۱۰ ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج جُرَيْجٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سے مروی ہے۔انہوں نے تحلي بن عبداللہ بن صیفی یحی صَيْفِي عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سے کي نے عکرمہ بن عبدالرحمن سے، عکرمہ نے عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنْ النَّبِيَّ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آلَى مِنْ نِّسَائِهِ صلى الله علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے ایک مہینہ کنارہ کشی شَهْرًا فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ کی قسم کھائی اور جب انتیس دن گذرے تو صبح کو یا يَوْمًا غَدَا أَوْ رَاحَ فَقِيْلَ لَهُ إِنَّكَ حَلَفْتَ شام کے وقت (اُن کے پاس گئے تو آپ سے کہا أَنْ لَّا تَدْخُلَ شَهْرًا فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ گیا کہ آپ نے قسم کھائی تھی کہ مہینہ بھر نہ آئیں گے تو يَكُوْنُ تِسْعَةً وَّعِشْرِيْنَ يَوْمًا۔آپ نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔اطرافه ٥٢٠٢۔۱۹۱۱ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۱۹۱۱: عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ سليمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمید حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سے حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی آلَى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مِنْ نِّسَائِهِ وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ فَأَقَامَ ازواج سے الگ رہنے کی قسم کھائی اور آپ کے فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ لفظ غمی ہے۔(فتح الباری جز ۲۰ حاشیہ صفحہ ۱۵۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔