صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 572
صحيح البخارى جلد ٣ ۵۷۲ ٣٠ - كتاب الصوم کی کمی کا باعث ہوتی ہے۔الباءة کے معنی قدرت مباشرت اور الْوَجَاءَ وَجِي يُوْجَا سے ہے عنی فَتَرَ عَنِ الْمَشْي یعنی چلنے میں بوجہ تھکان سست ہو جانا۔یہ لفظ وجاء سے مشتق ہے بمعنی آختہ کرنا۔پہلا مفہوم یعنی سست ہونا قرین قیاس ہے کیونکہ اسلام طبعی قوتوں کو معطل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔سابقہ ابواب میں رمضان کے روزوں کی اغراض بیان کی گئی ہے جو خلاصہ یہ ہیں :- اول: اطاعت الہی میں خواہشات کو ضبط میں رکھنا کہ جو نفس کی قربانی ہے اور اُس میں مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔( باب ۲) :دوم روزہ سابقہ گناہوں کا کفارہ ہے۔( باب ۳) سوم آئندہ گناہوں سے بچنے کا ایک ذریعہ ہے۔( باب ۶) : چہارم تهجد، دعا اور تسبیح وتحمید اور ذکر الہی کا موقع اس سے حاصل ہوتا ہے۔تزکیہ نفس کے لئے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں۔( باب ۵) پنجم تلاوت قرآن مجید کا موقع ملتا ہے۔(باب) ششم: بذریعہ فدیہ صدقہ و خیرات غرباء کی مدد کے مواقع حاصل ہونا۔( باب ۷) خوردونوش میں اسراف سے بچنے اور جسمانی و اخلاقی صحت میں اعتدال پیدا ہونے کی طاقت۔( باب ۱۰) ہشتم سب سے بڑھ کر یہ غرض ہے کہ اس مجاہدہ سے ملکی صفات پیدا ہو کر قرب الہی کا موجب ہوں۔(باب۹،۲) بَاب ۱۱ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُوْمُوْا وَإِذَا رَأَيْتُمُوْهُ فَأَفْطِرُوْا نبی ﷺ کا فرمانا جب تم ( رمضان کا چاند دیکھو تو روزہ رکھواور جب تم ( شوال کا چاند دیکھو تو افطار کرو وَقَالَ صِلَةُ عَنْ عَمَّارٍ مَنْ صَامَ يَوْمَ اور صلہ نے حضرت عمار بن یاسر) سے یہ روایت الشَّكِ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ کی: جس نے شک کے دن روزہ رکھا تو اُس نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی یقینا نا فرمانی کی۔١٩٠٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۱۹۰۶ عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ مَّالِكِ عَنْ نَّافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ انہوں نے مالک سے، مالک نے نافع سے ، نافع نے عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا اور