صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 571
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۷۱ ٣٠ - كتاب الصوم جائے۔ روزہ دار کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ میں روزہ دار ہوں۔ خاموشی اور اعراض ہی دراصل صوم کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ جس کے معنی ہیں رُک جانا؟ بغیر اس کے کہ قیل و قال ہو۔ چونکہ حدیث نبوی میں صراحت ہے کہ روزہ خالصہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے ہونا چاہیے ، اس لئے یہ اظہار بھی کہ میں روزہ دار ہوں خلوص عمل کے منافی ہے۔ بَاب ۱۰ : الصَّوْمُ لِمَنْ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ الْعُزْبَةَ اُس شخص کا روزہ جس کو مجرد ہونے کی حالت میں اپنے نفس کی نسبت اندیشہ ہو ١٩٠٥ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي :۱۹۰۵ عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے حَمْزَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ البوحمزہ سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم عَلْقَمَةَ قَالَ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللهِ سے، ابراہیم نے علقمہ سے روایت کی ۔ا روایت کی۔ انہوں نے کہا: جبکہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ) رضی اللہ عنہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِي کے ساتھ جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنِ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ نے فرمایا: جو مردانہ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ قوت رکھتا ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ شادی کرے کیونکہ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَّمْ یہ بات نگاہ نیچے رکھنے میں زیادہ محمد ہوگی اور شرمگاہ کو يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءً۔ زیادہ محفوظ رکھے گی۔ اور جو شادی کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اُسے روزہ رکھنا چاہیے۔ کیونکہ وہ اُس کی {قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : أَلْبَاءَةُ النِّكَاحُ } شہوت کو کم کردے گا۔ (ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے اطرافة: ٥٠٦٥، ٥٠٦٦ کہا: الباء ۃ سے مراد نکاح کرنے کی طاقت ہے } تشريح : الصَّوْمُ لِمَنْ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ الْعُرْبَةَ: شہوت جنسی کی شدت کم کرنے کی غرض سے روزہ بطور علاج تجویز کیا گیا ہے۔ غذا کی کمی بیشی طبعاً جسمانی قوی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ صحف قدیمہ کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کے کاہن سبت وغیرہ میں نیم روزہ رکھتے تھے۔ یعنی بعض غذاؤں سے پر ہیز تھا اور مقدار بھی کم ہوتی ۔ لیکن ایسے روزہ کی غرض تزکیہ نفس نہ تھی۔ اس کی نسبت تو رات میں کوئی ہدایت نہیں پائی جاتی۔ بنی اسرائیل کے صحف قدیمہ میں روزے کے لئے جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہ یہ ہیں: جان کو دکھ دینا۔ (اخبار ۲۹:۱۶) جیسا کہ اس کے متعلق اپنے موقع پر ذکر آئے گا۔ جان کو دکھ دینا مثبت غرض نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا ارشاد کا تعلق عفت کی توفیق پانے سے ہے جس طرح پر خوری شہوت کو غیر معمولی تحریک کرتی ہے۔ اسی طرح کم خوری اس یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۲ حاشیہ صفحہ ۱۵۳)