صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 570 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 570

صحيح البخاری جلد ٣ ۵۷۰ بَاب : هَلْ يَقُوْلُ إِنِّي صَائِمٌ إِذَا شُتِمَ کیا یہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں جب اُسے گالی دی جائے ؟ ٣٠ - كتاب الصوم ١٩٠٤ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ۱۹۰۴ : ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوْسُفَ عَنِ ابنِ بن یوسف نے ہمیں خبر دی کہ ابن جریج سے مروی ہے۔جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ أَبِي انہوں نے کہا: عطاء نے ابوصالح زیات سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ نہ سے سنا۔وہ کہتے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صَالِحِ الزَّيَّاتِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اُس کے لئے ہوتا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ كُلُّ ہے سوائے روزہ کے۔کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي ہی اُس کا بدلہ ہوتا ہوں اور روزے ایک ڈھال ہیں اور وَأَنَا أَجْزِيْ بِهِ وَالصّيَامُ جُنَّةٌ وَإِذَا كَانَ جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو وہ کوئی نخش يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا بات نہ کرے اور نہ شور و غل کرے۔اور اگر کوئی اُس کو يَصْخَبْ فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ گالی دے یا اس سے لڑے تو چاہیے کہ وہ یہ کہہ دے: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ مِیں روزہ دار شخص ہوں۔اور اُس ذات کی قسم ہے جس ہ کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! یقینا روزہ دار کے منہ کی بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بوئے مشک سے بھی زیادہ اللهِ مِنْ رِيْحِ الْمِسْكِ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ پسندیدہ ہے۔روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جن يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ سے وہ خوش ہوتا ہے۔پہلی خوشی اس وقت ہوتی ہے جبکہ وہ افطار کرتا ہے اور دوسری جب وہ اپنے رب سے فَرِحَ بِصَوْمِهِ۔اطرافه: ١٨٩٤، ۵۹۲٧، ۷۹۹۲، ۷۵۳۸ ملاقات کرے گا تو اپنے روزہ کی وجہ سے خوش ہوگا۔تشریح : هَلْ يَقُولُ إِلَى صَائِمٌ إِذَا شَتِمَ: باب میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت ای معمول سے متعلق روایت نمبر ۱۸۹۴ میں گزر چکی ہے۔اُس میں اور مندرجہ بالا روایت میں صرف لفظی اختلاف ہے۔مفہوم ایک ہی ہے۔وَلَا يَصْحَبُ: اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ لڑائی جھگڑا نہ کرے۔باب کا عنوان استفہامیہ قائم کر کے جواب نہ بتانے کی غرض سے نظر انداز کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی غرض یہ تاکید ہے کہ کسی قسم کا جھگڑا نہ کیا