صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 559 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 559

صحيح البخاری جلد۳ ۵۵۹ ٣٠ - كتاب الصوم دیا جاتا ہے۔جیسا کہ اطباء بھی بعض اوقات بیماری میں ترک غذا کا مشورہ دیتے ہیں۔یہ فعل طبعی ہے۔احکامِ شریعت کی بنیاد بھی در حقیقت طبعی حالات پر مبنی ہے۔اس تعلق میں اسلامی اصول کی فلاسفی سوال اول کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۲۳،۳۱۹ تا ۳۳۱ دیکھئے۔قرآنِ مجید میں الفاظ كَمَا كُتِب سے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مسلمانوں پر اس قسم کے روزے فرض کئے گئے ہیں جن کا تعلق شریعت سے ہے۔اسلام سے قبل اہل کتاب یہود و نصاری وغیرہ کے مذہب میں روزے رکھنے کی ہدایات موجود ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مصیبت قحط یا دوبا وغیرہ میں روزے بطور کفارہ گناہ و بغرض نجات رکھے جاتے تھے۔یہودیوں میں صرف ایک روزہ فرض تھا یعنی عاشورہ کا۔جیسا کہ آگے ذکر آئے گا۔پہلی روایت میں دو قسم کے روزوں کا ذکر ہے؟ فرض اور نفل۔دوسری روایت میں بتایا گیا ہے کہ مشار الیہ حکم نازل ہونے سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔فقہاء نے اس روزے کے متعلق اختلاف کیا ہے کہ وہ بطور فرض رکھا جاتا تھایا نفل۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک چونکہ لفظ امر دارد ہوا ہے، اس لئے یہ روزہ فرض تھا۔شوافع نے حضرت معاویہ کی مرفوع حدیث ( نمبر ۲۰۰۳) سے استدلال کیا ہے کہ رمضان کے روزوں سے قبل کوئی روزہ بطور فرض واجب العمل نہ تھا اور ان کے خلاف حضرت ربیع بنت معوذ کی روایت (نمبر ۱۹۶۰) سے یہ دلیل دی گئی ہے کہ ان کے الفاظ میں صراحت ہے کہ رمضان کا حکم نازل ہونے کے بعد عاشورہ کا روزہ بلحاظ فرض منسوخ ہو گیا اورنفلی روزہ رہ گیا جو چاہے رکھے جو چاہے نہ رکھے۔اس باب کی تیسری روایت (نمبر ۱۸۹۳) سے بھی اسی امر کی تائید ہوتی ہے۔در اصل سچائی دونوں باتوں کے بین بین ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے واضح ہوتا ہے کہ جب تک کوئی نیا حکم نازل نہ ہوتا؟ سابقہ شریعت کے مطابق عمل فرماتے تھے۔جیسا کہ تحویل قبلہ سے پہلے آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔حکم شریعت نازل ہونے پر بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے۔اسلامی شریعت نے مرد اور عورت دونوں پر روزہ واجب کیا ہے؟ برخلاف موسوی شریعت کے کہ اس میں عورت اس بات کی پابند ہے کہ وہ خاوند کی اجازت کے بغیر روزہ نہیں رکھ سکتی اور اگر وہ ایسا کرے اور اُس کا خاوند روزہ چھوڑنے کا حکم دے تو اُس کا فرض ہوگا کہ وہ چھوڑ دے۔(گنتی باب ۳۰) آیا عربوں میں عاشورہ کا روزہ پورے اہتمام سے رکھا جاتا تھا ؟ آرامی اور عبرانی زبانوں میں لفظ اسوء (عاشورہ) کے معنے دسویں دن کے ہیں۔(احبار باب ۱۶ آیت (۲۹) یہ دن بھی سبت قرار دیا گیا ہے اور یہودی جنتری کی رُو سے جس کی ابتداء ساتویں مہینہ سے ہوتی ہے۔اس کی دسویں تاریخ کو روزہ رکھنا اور عبادت میں سارا دن گذار نا، کفارہ اور تزکیہ نفس کی غرض سے لازمی اور بطور ایک دائمی قانون ہے۔یہود کا یہ اعتقاد ہے کہ اس دن حضرت موسی کو دس احکام شریعت دیئے گئے تھے۔اس وجہ سے ان کے ہاں اس دن کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔اس دن دیسی اور پر دیسی دونوں کے لئے روزہ رکھنا ضروری ہے۔سورہ اعراف آیت نمبر ۱۴۳ میں تھیں اور دس کل چالیس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طور پر چلہ کشی کرنے کا ذکر آتا ہے۔اس تعلق میں خروج باب ۳۴ آیت ۲۸ بھی دیکھئے۔ان ابواب میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پر