صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 558
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۵۸ ٣٠ - كتاب الصوم قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُوْمُ يَوْمَ عَاشُوْرَاءَ فِي اُنہیں خبر دی کہ قریش جاہلیت میں عاشورہ کے دن الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ روزہ رکھا کرتے تھے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ حَتَّى فُرِضَ نے بھی یہ روزہ رکھنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ رمضان رَمَضَانُ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله ) کے روزے فرض ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہے یہ روزہ رکھے اور جو شَاءَ أَفْطَرَ۔اطرافه: ١٥٩٢، ١ الحمد چاہے نہ رکھے۔٤٥٠، ١٤٥٠٤۲ ،۳۸۳۱ ،۲۰ تشریح : وُجُوبُ صَوْمِ رَمَضَانَ : صوم کے لغوی معنی ہیں کسی کام سے رُکنا۔صَامَتِ الريحُ ہوا تھم گئی۔نیز کہتے ہیں: صَامَتِ الشَّمْسُ - إِذَا وَقَفَتْ فِي كَبِدِ السَّمَاءِ وَأَمْسَكَتْ عَنِ الْمَسِيْرِ سَاعَةَ الزَّوَالِ۔سورج بوقت زوال چلنے سے بظاہر آسمان کے وسط میں رک گیا۔اس مقام کو جہاں سورج عارضی طور پر ٹھہرا ہوا نظر آتا ہے مقام کہتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں : جِئْتُهُ وَالشَّمْسُ فِي مَصَامِهَا۔میں اُس کے پاس اُس وقت آیا جب سورج اپنی قرارگاہ میں رکا ہوا تھا۔کھانے پینے سے رک جانے کے معنوں میں نابغہ ذبیانی کا یہ مشہور شعر ہے:۔خَيْلٌ صِيَامٌ وَخَيْلٌ غَيْرُ صَائِمَةٍ تَحْتَ الْعَجَاجِ وَأُخْرَى تَعْلُكُ النُّجُمَا یعنی جنگ کے غبار میں بعض گھوڑے چارے سے رُکے ہوئے ہیں اور بعض نہیں اور کچھ اور ہیں جو لگا میں چہار ہے ہیں۔یعنی یلغار میں شامل ہونے کے لئے بے قرار ہیں۔(اقرب الموارد- صوم) کھانے پینے اور بولنے سے رکنے کے معنوں میں حضرت مریم علیہا السلام کا یہ قول قرآن مجید میں وارد ہوا ہے کہ إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلَّمَ الْيَوْمَ اِنسِيًّا۔(مریم:۲۷) یعنی میں نے رحمن کی خوشنودی کی خاطر روزہ کی منت مانی کہ میں کسی انسان سے کوئی بات نہ کروں گی۔یعنی چپ کا روزہ اور اصلاح شریعت میں ایک معین وقت کے لئے کھانا پینا اور ازدواجی تعلقات اور بے ہودہ کلام سے پر ہیز مراد ہے۔روزہ کی مشروعیت اور اس کے وجوب کے بارہ میں سورۃ بقرہ آیت ۱۸۴ کا حوالہ دیا گیا ہے۔جس میں پہلے مطلق روزہ رکھنے کا ارشاد ہے۔ماہ رمضان کی تخصیص ما بعد کی آیات میں ہے۔الفاظ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمُ سے ظاہر ہے کہ روزہ پہلی امتوں پر بھی بطور شرعی حکم فرض کیا گیا تھا۔اس کے ثبوت میں جہاں صحف سماویہ شاہد ہیں۔قدیم ترین اقوام عالم میں روزے کا کسی نہ کسی شکل میں پائے جانے کا پتہ بھی چلتا ہے۔اگر چہ اُن میں ایسا روزہ بھی پایا جاتا ہے جو محض طبعی ہے۔جس سے حیوانات بھی خالی نہیں۔جو کسی عارضی سبب یعنی سدھانے یا جنگ میں مشغول ہونے یا کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے وقتی طور پر کھانا پینا خود چھوڑ دیتے ہیں یا چھڑوا