صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 560 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 560

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۶۰ ٣٠ - كتاب الصوم چنانچہ یہود میں یہ روزے ! وه چالیس دن رہے۔ نہ روٹی کھائی اور نہ پانی پیا اور اُس نے اس عہد کی باتوں یعنی دس احکام کو لکھا۔ (استثناء باب آیت ۹ تا ۱۱ ) ے بطور نفل رکھے جاتے ہیں اور چالیسواں دن یہی عاشورہ کا وہ دن ہے جو خاص اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ عہد نامہ قدیم کی کتاب خروج سے ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کو ماہ اسیب میں بھی سات روزے رکھنے کا حکم تھا اور یہ وہ مہینہ تھا جس میں بنی اسرائیل کو فرعون مصر سے نجات دلوائی گئی تھی ۔ ( خروج باب ۳۴ آیت (۱۸) ان روزوں میں اور سبت کے روزے میں کھانے پینے کی پابندی محدود تھی۔ یعنی خمیری روٹی یا آگ پر پکی ہوئی اشیاء سے پر ہیز کیا جاتا تھا۔ عیسائیوں میں بھی روزے رکھے جاتے تھے۔ خود حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی روزہ رکھا اور اپنے شاگردوں کو بھی تاکید فرمائی۔ (متی باب ۶ آیت ۱۶، ۱۷) روایت نمبر ۱۸۹۳ سے ظاہر ہے کہ زمانہ جاہلیت میں قریش بھی عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ جو غالبا یہودیوں کی تقلید تھی۔ علامہ عینی نے عنوانِ باب کے دو حصوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک حصے کا تعلق رمضان کے روزوں کے وجوب سے ہے اور دوسرے حصے کا تعلق مطلق روزے سے ۔ اور انہوں نے كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمُ (البقرۃ: ۱۸۴) سے یہ استدلال کیا ہے کہ رمضان کے روزے یہودیوں اور عیسائیوں پر بھی فرض تھے ۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۵۴) مگر یہ استدلال درست نہیں بلکہ ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت مع معلومہ شرائط صرف اسلام ہی سے مخصوص ہے۔ دیگر مذاہب میں بعض دن روزے کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں۔ مثلاً برہمن ہندی ماہ کی گیارھویں اور بارہویں تاریخ کو ا کاوش کا روزہ رکھتے تھے۔ ہندو جوگیوں کی چلہ کشی کا رواج اب تک ہے۔ قدیم ترین مصریوں اور یونانیوں میں بھی روزہ رکھا جاتا تھا۔ اس نا قابل انکار صداقت کے باوجود کہ مختلف قوموں میں روزہ قدیم ایام سے کسی نہ کسی شکل میں چلا آتا ہے، وہ پابندیاں نہ تھیں جو شریعت اسلامیہ نے لگائیں اور نہ اس کے لئے ان قوموں میں کوئی خاص مہینہ مقرر کیا گیا تھا۔ اسلام نے جہاں روزوں کے لئے رمضان کا مہینہ مقرر کیا وہاں نفلی روزے علی الاطلاق رکھنے کی بھی ہدایت کی ۔ کتاب الصوم میں دونوں قسم کے روزوں کا ذکر آئے گا اور اسی لئے شروع میں امام بخاری نے پہلے باب کے عنوان میں دونوں قسم کے روزوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ایک قسم روزے کی فرض ہے اور دوسری قسم وجوب مندوب یو ما قسم وجوب مندوب یعنی ایسے روزے جن کی ترغیب دی گئی۔ بَاب ۲ : فَضْلُ الصَّوْمِ روزے کی فضیلت ١٨٩٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۱۸۹۴ : عبداللہ بن مسلمہ قعنبی ) نے ہم سے بیان عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابوالزناد سے، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ