صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 42
صحيح البخاري - جلد ٣ تشریح: ۴۲ ٢٤ - كتاب الزكاة يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً: باب ۱۳۱۳ کے عناوین کے تحت کوئی روایت درج نہیں کی گئی۔شارحین کا خیال ہے کہ ان کے مطابق کوئی مستند روایت امام بخاری کو نہیں ملی۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۳۶۵) یہ خیال درست نہیں کیونکہ اس مفہوم کی کئی ایک روایتیں کتاب الزکوۃ میں موجود ہیں۔مثال کے طور پر روایت نمبر ۴۲۵،۱۴۲۰ دیکھئے۔دراصل ان ابواب میں جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں دو قسم کے صدقات کا ذکر ہے۔ایک اعلانیہ جس کا دیا جانا صاحب نصاب پر فرض ہے اور بیت المال کے لئے محصلین کے ذریعہ سے وصول کیا جاتا ہے اور دوسری قسم طوعی یعنی اختیاری اور بطور نفل۔اس کے لئے پسندیدہ یہ ہے کہ اس میں اختفاء سے کام لیا جائے اور محتاجوں کو براہِ راست دیا جائے۔آیت محولہ میں سِرًّا کے بعد فرمایا: وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ (البقرة:۲۷۲) یعنی اگر تم صدقوں کو چھپاؤ اور محتاجوں کو دو، اس فرق کے پیش نظر ایک ہی آیت کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دوالگ الگ عنوان قائم کئے گئے ہیں تا صدقات کی دونوں قسموں کی طرف توجہ منعطف کی جائے۔صَدَقَةُ السّر کا تعلق اموال باطنیہ سے ہے۔یعنی ایسے مالوں سے جن کی نگرانی اور حساب کتاب کرنا مشکل ہے۔جیسے جمع زیورات اور اندوختہ نقد مال، عطیہ جات ، ہدیئے اور نذرانے وغیرہ۔ایسا مال اگر نصاب سے زیادہ ہو تو اس پر زکوۃ عائد ہوگی اور افراد اپنے طور پر زکوۃ نکالیں گے اور مستحق محتاج کو کسی ایسے ذریعہ سے دیدیں گے کہ اسے پتہ نہ لگے؛ یہ کس کی طرف سے ہے اور اعلانیہ صدقہ کا تعلق اموال ظاہرہ یعنی پیداوار زمین ، مواشی ، تجارت وغیرہ پر واجب الاداء زکوۃ سے ہے جو بیت المال کا حق ہے اور یہ زکوۃ از خود صرف نہیں کی جاسکتی۔ان دو ابواب کے قائم کرنے میں امام بخاری نے جس لطیف تصرف سے کام لیا ہے اس کی مثال ملاحظہ ہو باب نمبر ۳۴ ۳۵ میں جہاں ایک حدیث کے دو حصے ایک فقہی اختلاف حل کرنے کی غرض سے کئے ہیں۔بَاب ٤ ١ : إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى غَنِي وَهُوَ لَا يَعْلَمُ اگر مالدار کو صدقہ دے اور اسے معلوم نہ ہو ١٤٢١ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۱۴۲۱ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا :) شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ شعیب نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا:) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ابوزناد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعرج سے، اعرج رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ قَالَ رَجُلٌ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقِ کہا: (آج) میں صدقہ ضرور کروں گا۔چنانچہ وہ اپنا فَأَصْبَحُوْا يَتَحَدَّثُوْنَ تُصْدِقَ عَلَى صدقہ لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں اسے رکھ