صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 41 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 41

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۱ ٢٤ - كتاب الزكاة على الصحيحن، كتاب المناقب من كتاب معرفة الصحابة ، باب ذكر زينب بنت جحش ، روایت نمبر ۶۷۷۶) بخاری کے بعض نسخوں کے مطابق روایت نمبر ۱۴۲۰ باب اا کے تحت ہے جبکہ بعض نسخوں کے مطابق الگ باب کے تحت ہے لیکن ان میں بھی اس باب کو عنوان کے بغیر قائم کیا گیا ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ سابقہ باب سے اس کا تعلق ہے جس میں صدقے کی فضیلت کا ذکر آیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود صدقات میں سب پر سبقت رکھتے تھے۔ ( روایت نمبر ۶ ) اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ ملنے کا موقع بھی سب سے پہلے حضرت زینب ہی کو دیا جو گئی تھیں ۔ بَاب ۱۲ : صَدَقَةُ الْعَلَانِيَةِ اعلانیہ صدقہ کرنا وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: الَّذِينَ يُنْفِقُونَ اور اللہ عز وجل کا یہ فرمانا: جو اپنے مالوں کو رات اور دن أَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً چھپا کر اور کھلم کھلا خرچ کرتے ہیں ۔ (جس اجر کے وہ إِلَى قَوْلِهِ: وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ) مستحق ہیں وہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس ہے نہ انہیں (البقرۃ: ٢٧٥) آئندہ کا خوف ہوگا ) اور نہ وہ گزشتہ پرغم کریں گے۔ بَاب ۱۳ : صَدَقَةُ السِّرِّ چھپ کر خیرات کرنا الفل صلى الله وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ اور حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے عنه ۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ ہوئے کہا: اور ایک وہ آدمی ہے کہ جس نے صدقہ کیا اور ۔ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ اسے اتنا چھپایا کہ اس کا دایاں ہاتھ جو خرچ کرتا ہے اس کے مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: وَإِنْ بائیں کو خبر نہیں ہوتی اور اللہ تعالی کا فرمانان اگر تم صدقات کو تُبْدُوا الصَّدَقْتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ ظاہر کرو تو بھی اچھا ہے اوراگر تم ان کوچھپاؤ اور تا ہوں کو دو تو یہ تمہارے لئے زیادہ اچھا ہے {۳ اور اللہ تعالی تم تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ ط لَّكُمْ { وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيَاتِھ سے تمہاری برائیاں (نیکیوں کے ذریعے) دور کردے گا اور اللہ تعالیٰ جو تم کرتے ہو اس سے خوب واقف ہے۔} وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ } الْآيَةَ۔ (البقرة : ۲۷۲) ق ہے۔ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں صنعت کی جگہ تنفق کا لفظ ہے ( فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفحہ ۳۶۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ (فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفحہ ۳۶۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ ے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں ( فتح الباری مطبوعہ انصاریہ دہلی جزء ۶ صفحہ ۲۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔