صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 41
صحيح البخاری جلد ۳ ༩། ٢٤ - كتاب الزكاة على الصحيحن، كتاب المناقب من كتاب معرفة الصحابة ، باب ذكر زينب بنت جحش ، روایت نمبر ۶۷۷۶) بخاری کے بعض نسخوں کے مطابق روایت نمبر ۱۳۲۰ بابا کے تحت ہے جبکہ بعض نسخوں کے مطابق الگ باب کے تحت ہے لیکن ان میں بھی اس باب کو عنوان کے بغیر قائم کیا گیا ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ سابقہ باب سے اس کا تعلق ہے جس میں صدقے کی فضیلت کا ذکر آیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود صدقات میں سب پر سبقت رکھتے تھے۔(روایت نمبر ۶) اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ ملنے کا موقع بھی سب سے پہلے حضرت زینب ہی کو دیا جو ئی تھیں۔بَابِ ۱۲ : صَدَقَةُ الْعَلَانِيَة اعلانیہ صدقہ کرنا وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: الَّذِينَ يُنْفِقُونَ اور اللہ عزوجل کا یہ فرمانا: جو اپنے مالوں کو رات اور دن اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً چھپا کر اور کھلم کھلا خرچ کرتے ہیں۔(جس اجر کے وہ إِلَى قَوْلِهِ: وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ) مستحق ہیں وہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس ہے نہ انہیں (البقرة: ٢٧٥) آئندہ کا خوف ہوگا) اور نہ وہ گزشتہ پرغم کریں گے۔بَاب ۱۳ : صَدَقَةُ السِّرِ چھپ کر خیرات کرنا وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ اور حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ ہوئے کہا: اور ایک وہ آدمی ہے کہ جس نے صدقہ کیا اور بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ اسے اتنا چھپایا کہ اسکا دایاں ہاتھ جوخرچ کرتا ہے اس کے مَا صَنَعَتْ يَمِيْنُهُ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: { إِنْ بائیں کو خبرنہیں ہوت اور اللہ تعلی کا فرمان اگر تم صدقات کو تُبْدُوا الصَّدَقَتِ فَنِعِمَّا هِيَ أَوَ اِن ظاہر کرو تو یہ بھی اچھا ہے اور اگر تم ان کو چھپاؤ اور تاجوں کو دو تو یہ تمہارے لئے زیادہ اچھا ہے (۳) اور اللہ تعالیٰ تم تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ ط سے تمہاری برائیاں ( نیکیوں کے ذریعے ) دور کر دے گا اور اللہ تعالیٰ جو تم کرتے ہو اس سے خوب واقف ہے۔} لَّكُمْ { وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيَّاتِكُمْ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ الْآيَةَ۔(البقرة: ۲۷۲) فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں صنعت کی جگہ تُنفق کا لفظ ہے (فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۳۶۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۳۶۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔سے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں (فتح الباری مطبوعہ انصار یہ دہلی جز ء۶ صفحہ ۲۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔