صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 43
صحيح البخاری جلد۳ ٢٤ - كتاب الزكاة سَارِقٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ دیا۔صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ چور کو صدقہ دیا لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ گیا۔(یہ سن کر ) اس نے کہا: اے اللہ ! تیرے لیے فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ فَأَصْبَحُوا سب حم ہے۔میں اور صدقہ کروں گا۔چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک کنچنی کے ہاتھ میں اس نے يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ رکھ دیا۔صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات کنچنی فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ کو صدقہ دیا گیا۔اس پر اس نے کہا: اے اللہ ! تیرے لَا تَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ لتے ہی سب حمد ہے کہ نینی کوصدقہ ملا۔میں اور صدقہ فَوَضَعَهَا فِي يَدَيْ غَنِي فَأَصْبَحُوا کروں گا۔چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک يَتَحَدَّثُوْنَ تُصْدِقَ عَلَى غَنِيّ فَقَالَ مالدار کے ہاتھوں میں اسے رکھ دیا۔صبح کو لوگ باتیں اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ وَعَلَی کرنے لگے کہ منی کو صدقہ دیا گیا تو اس نے کہا: اے زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِي فَأُتِيَ فَقِيْلَ لَهُ أَمَّا الله ! تیرے لئے ہی سب حمد ہے جو چور، کنچنی اور صَدَقَتُكَ عَلَى سَارِقِ فَلَعَلَّهُ أَنْ مالدار کو صدقہ دیا گیا۔پھر اس کے پاس کوئی آیا اور يَسْتَعِفَّ عَنْ سَرِقَتِهِ وَأَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا اس نے اسے کہا کہ چور کو جوتو نے صدقہ دیا ہے ہوسکتا ہے کہ وہ چوری سے باز رہے اور جو کنچنی کو دیا ہے؟ أَنْ تَسْتَعِفَ عَنْ زِنَاهَا وَأَمَّا الْغَنِيُّ ہوسکتا ہے کہ وہ زنا سے پر ہیز کرے اور جو مالدار کو دیا فَلَعَلَّهُ أَنْ يُعْتَبرَ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللهُ۔تشریح: ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ عبرت حاصل کرے اور وہ مال جو اللہ نے اسے دیا ہے اس میں سے خرچ کرے۔إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى غَنِيّ : یہ باب بھی سابقہ ابواب کے تعلق میں ایک فقہی اختلاف کے پیش نظر قائم کیا گیا ہے۔امام ابوحنیفہ نے جہاں افراد کا یہ حق تسلیم کیا ہے وہ زکوۃ اپنے طور پر بھی محتاج کو بلا واسطہ بیت المال دے سکتے ہیں، وہاں انہوں نے یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ والدین یا دادا یا بیٹے اور پوتے کو نہیں دی جاسکتی۔امام احمد بن حنبل نے باقی ائمہ کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے یہاں تک فتویٰ دیا ہے کہ ایک فرد ایک جماعت کو اور جماعت فرد کو بغیر توسط بیت المال زکوۃ دینے کے مجاز ہیں۔کتاب الفقه على المذاهب الاربعة، باب مصرف الزكوة) امام بخاری جمہور کی رائے سے متفق معلوم ہوتے ہیں۔یعنی زکوۃ اموال باطنہ پر جو از قسم صَدَقَةُ السر ہیں محتاج کو براہِ راست دی جاسکتی ہے۔البتہ وہ زکوۃ جو اموال ظاہرہ پر عائد ہوتی ہے وہ بیت المال ہی کو دی جانی چاہیے۔سابقہ ابواب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے؛ اس میں تُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ کا ارشاد سرا کے ساتھ وابستہ ہے اور اعلانیہ صدقہ کا