صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 552 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 552

صحيح البخاري - جلد۳ ۵۵۲ ۲۹ - كتاب فضائل المدينة عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: اے میرے اللہ المدینہ میں دگنی برکت دے، اس سے جو تو نے مکہ کو دی ہے۔تَابَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ تُوْنُسَ۔عثمان بن عمر نے بھی یونس سے انہی کی طرح بیان کیا۔١٨٨٦ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ۱۸۸۶: تقتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمید سے، حمید نے أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کی فَنَظَرَ إِلَى جُدُرَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ دیواریں دیکھتے تو اپنی اونٹنی کو تیز چلاتے اور اگر کسی رَاحِلَتَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا اور جانور پر ہوتے تو اسے بھی دوڑاتے ، بوجہ مدینہ کی مِنْ حُبّها۔اطرافه: ۱۸۰۲۔محبت کے۔تشریح یہ باب بغیر عنوان ہے جس میں دو روایتیں ہیں۔ایک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا ذکر ہے اور دوسری میں مدینہ سے آپ کی محبت کا۔یہ روایت نمبر ۱۸۰۲ میں ایک اور سند سے گزر چکی ہے۔علامہ ابن حجر عسقلانی کی رائے میں اس باب کا تعلق سابقہ ابواب کے مضمون سے ہے۔اس لئے اس کا نیا عنوان قائم نہیں کیا گیا اور اس میں بتایا گیا ہے کہ آپ کی محبت اور دعا کی قبولیت کا نتیجہ تھا کہ مدینہ پاکیزہ اور اچھی حالت میں ہو گیا اور اسے عمد و حالت میں رکھنے کی تاکید کی گئی۔(فتح الباری جز پہ صفحہ ۱۲۷) یہ حصہ مضمون خاص طور پر قابل توجہ ہے۔اس تعلق میں باب نمبر ۳۰۲ کی تشریح بھی دیکھئے۔بَاب ۱۱: كَرَاهِيَةُ النَّبي ﷺ أَنْ تُعْرَى الْمَدِينَةُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ کے کسی طرف بھی رخنہ دینے کو نا پسند کرنا ۱۸۸۷: حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا ۱۸۸۷: (محمد) بن سلام (بیکندی) نے ہم سے بیان الْفَزَارِيُّ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيْلِ عَنْ أَنَسٍ کیا کہ مروان بن معاویہ ) فزاری نے ہمیں خبر دی۔