صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 551
صحيح البخاری جلد۳ ۵۵۱ ۲۹ - كتاب فضائل المدينة اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا تَنْفِي الرِّجَالَ منافقوں کے بارہ میں دو گروہ ہو گئے اور نبی صلی اللہ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيْدِ۔علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ( یعنی مدینہ ایسے ) آدمیوں کو اس طرح دور کرتا ہے؛ جیسے آگ لوہے کا میل کچیل اطرافه: ٠٤٠٥٠ ٤٥٨٩۔دور کرتی ہے۔تشریح: الْمَدِينَةُ تَنْفِى الْخَبَثَ : اس باب میں باب نمبر 1 کا مضمون دہرایا گیا ہے۔دونوں ابواب کے ذیل میں جو روایتیں درج کی ہیں۔ان میں بلحاظ الفاظ قدرے اختلاف ہے۔لیکن مضمون ایک ہی ہے۔امام ابن حجر کے نزدیک اس باب میں لفظی صحت کی تحقیق مد نظر ہے۔(فتح الباری جز پہ صفحہ ۱۲۶) اس کے علاوہ مفہوم کی وضاحت بھی روایت نمبر ۱۸۸۴۱۸۸۳ کے ذریعہ سے کی گئی ہے۔اول الذکر روایت میں ناقص افراد کی مثال دی گئی ہے کہ وہ مدینہ میں نہیں رہنے پائیں گے اور ثانی الذکر میں منافقوں کا انجام بتایا گیا ہے کہ وہ الگ کئے جائیں گے۔جیسا کہ غزوہ احد میں ہوا۔جس فریق نے مدینہ میں رہ کر لڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ان کا زعیم عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔جب اسلامی لشکر مقام سواط پر پہنچا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام راستے کی طرف سے کوچ کرنے کی بجائے دیار بنی حارثہ کی جانب رخ کر دیا اور یہ علاقہ دشوار گزار تھا۔آپ اس نقل و حرکت سے دشمن کے عقب میں پہنچنا چاہتے تھے۔منافقین آپ کی تدبیر جنگ نہ سمجھ سکے اور کہنے لگے۔یہ تو موت کے منہ میں جانا ہے۔چنانچہ عبداللہ بن ابی بن سلول اپنے تین سو آدمیوں سمیت الگ ہو گیا اور مدینہ کی راہ لی۔اس کا الگ ہونا ہی بہتر تھا۔کیونکہ وہ در پردہ دشمن کے ساتھ تھا۔صحابہ کرام کو اس کی اس حرکت پر غصہ آیا۔یہاں تک کہ بعض نے اسے قتل کرنے کی ٹھانی۔مگر بعض نے یہ مشورہ دیا کہ اسے اپنے حال ہی پر رہنے دیا جائے۔ایسے نازک موقع پر ایسا مشورہ درست تھا۔آیت فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِتَيْنِ (النساء: ۸۹) میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب المغازی تشریح باب ۱۷۔چنانچہ حضرت زید بن ثابت نے اس واقعہ پر آیت کی تطبیق کی ہے۔مذکورہ بالا واقعہ سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مدینہ نے کیونکر ا چھے لوگوں سے روی لوگوں کو الگ کر دیا۔باب ١٨٨٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۱۸۸۵: عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کیا کہ وہب بن جریر نے ہمیں بتایا۔میرے باپ سَمِعْتُ يُوْنُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: ) یونس سے میں نے سنا۔أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حضرت