صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 546
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۴۶ ۲۹ - کتاب فضائل المدينة صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لَا يَكِيْدُ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ إِلَّا انْمَاعَ كَمَا اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کوئی مدینہ والوں سے دھوکا يَنْمَاعُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ ۔ فریب نہیں کرے گا؛ مگر وہ اسی طرح پانی ہو جائے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ تشريح : إِثْمُ مَنْ كَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ: لفظ سید کے تین معنی ہیں۔ حیلہ سازی، تدبیر جنگ اور ایذا رسانی۔ اس حدیث کی وضاحت کے لیے گذشتہ باب کی تشریح دیکھئے۔ بَاب : آطَامُ الْمَدِينَةِ مدینہ کے محل ۱۸۷۸ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۸۷۸ علی بن عبداللہ (مدینی ) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ قَالَ کہا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ سَمِعْتُ أَسَامَةَ رَضِيَ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عروہ نے مجھے خبر دی۔ ( کہا : ) اللهُ عَنْهُ قَالَ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ میں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَطْمٍ مِنْ آطَام نے کہا نبی صلی اللہ علیہ سلم نے مدینہ کے حملوں میں سے ایک محل پر سے جھانکا اور فرمایا: کیا تم بھی دیکھتے الْمَدِينَةِ فَقَالَ هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى إِنِّي ہو جو میں دیکھ رہا ہوں۔ میں تو تمہارے گھروں میں لَأَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ فتنوں کے برپا ہونے کی جگہیں دیکھ رہا ہوں ؟ اس كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ تَابَعَهُ مَعْمَرٌ کثرت سے جیسے بارش کے قطرے ۔ معمر اور سلیمان وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ۔ بن کثیر نے بھی زہری سے سفیان کی طرح بیان کیا۔ اطرافه: ٢٤٦٧، ٣٥٩٧، ٧٠٦٠۔ تشریح : أَطَامُ الْمَدِينَةِ : ألم کے بھی قلعہ بند دومنزلہ عمارت جس میں خطرہ کے وقت عورتیں اور بچے وغیرہ پناہ لیں۔ مدینہ کے آطام سیاہ پتھروں کے بنے ہوئے تھے، جو لاوا کے پہاڑوں سے بآسانی حاصل ہو جاتے تھے۔ اس شکل کی پناہ گاہیں سرحدی علاقوں میں آج کل بھی پائی جاتی ہیں۔ جو نظارہ بحالت مکاشفہ آپ نے دیکھا وہ ایک بہت بڑے فتنے کی خبر دیتا تھا جو حضرت عثمان کے خلاف بغاوت کی شکل میں اُٹھا۔ تفصیل کے لئے دیکھئے اسلام میں اختلافات کا آغاز - انوار العلوم جلد ۴ صفحه ۱۹۸ تا ۲۷۳۔