صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 545 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 545

صحيح البخاری جلد۳ ۵۴۵ ۲۹ - كتاب فضائل المدينة عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ حُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے خبیب بن عبدالرحمن عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے، انہوں نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان سمٹ کر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْإِيْمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا۔تشریح: مدینہ کی طرف اسی طرح آ جائے گا جس طرح سانپ اپنی بل میں سمٹ کر آتا ہے۔الْإِيْمَانُ يَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ: مدینہ کی حرمت وفضیلت کے بارہ میں تین اور ابواب (۷،۶،۵) قائم کئے گئے ہیں۔جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ مدینہ پر اسلامی مرکز بننے اور بارونق ہونے کے بعد ایسا وقت بھی آئے گا کہ وہ ویران ہو جائے گا اور لوگ اسے چھوڑ کر شام و عراق کو چلے جائیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ درندے اس میں چکر لگائیں گے اور اس کی وہ شان نہیں ہوگی جو ایک وقت مُرُّ الْإِيمَانِ وَالدَّارِ ہونے کے لحاظ سے تھی اور وہ اپنی یہ شان کھو بیٹھے گا اور یہ حالت فتوحات کے بعد ہوگی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی بہت نازک صورت میں پوری ہو چکی ہے۔روایت نمبر۱۸۷۷ کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانہ سے ہے۔جس نے بھی ٹکر لگائی؛ پاش پاش ہو گیا۔اس بارہ میں مسلم کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوْءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِى الْمَاءِ۔(مسلم، كتاب الحج، باب من اراد أهل المدينة بسوء أذابه الله) اور ایک اور روایت میں ہے کہ وَلَا يُرِيدُ أَحَدٌ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ذَوْبَ الرصاص (مسلم، كتاب الحج، باب فضل المدينة ودعاء النبى فيها بالبركة) یعنی جس نے مدینہ والوں کے متعلق بر ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ اسے پچھلا دے گا۔جیسے نمک پانی میں اور سیسہ آگ میں پگھلتا ہے۔باب ٧ : إِثْمُ مَنْ كَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ اس شخص کا گناہ جس نے مدینہ والوں سے دھوکا فریب کیا ۱۸۷۷ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ :۱۸۷۷ حسین بن حریث نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ عَنْ جُعَيْدٍ عَنْ عَائِشَةَ فضل ( بن موسیٰ) نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے مجعید هِيَ بِنْتُ سَعْدٍ قَالَتْ سَمِعْتُ سَعْدًا سے ، بعید نے عائشہ جو حضرت سعد کی بیٹی ہیں؟ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت سعد رَضِيَ