صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 40
صحيح البخاری جلد ۳ صلى الله لده ٢٤ - كتاب الزكاة ہیں۔ } امام بخاری نے ان آیتوں کا حوالہ دے کر روایت نمبر ۱۴۱۹ کے ذریعہ یہی نکتہ واضح کیا ہے کہ مختلف حالات میں صدقہ کی نوعیت اور اس کی قدر و قیمت بدل جاتی ہے۔ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُون ۔ یعنی ان حق و حکمت کی باتوں کا انکار کرنے والے در حقیقت خود اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اعما آپ کو اعمال صالحہ کے نیک اور شیریں ثمرات سے محروم کر لیتے ہیں۔ نہ خرچ کرنا اس لحاظ سے بھی ظلم ہے کہ مال کو جو دراصل خرچ کرنے کے لئے ہے روک کر اسے بے کار حالت میں رکھنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ اپنی قیمت ت اور افادیت سے محروم ہو جائے۔ ظلم کے معنی کسی کا حق چھینا۔ مال کا حق یہ ہے کہ وہ ضرورت حقہ پر خرچ کیا جائے۔ اقتصادیات سے تعلق رکھنے والے اسلام میں دو عنصر ہیں ؟ ملکیت اور انفاق فی سبیل اللہ ۔ زکوۃ وصدقہ تہی دست افراد قوم کے اُٹھنے اور بڑھنے کا موقع بہم پہنچانے میں محمد ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَكُمْ کے حکم پر عمل نہ کرنا ظلم ہوگا کہ اس بخل سے غریب طبقہ اپنی خداداد قوتوں کو بروئے کار لانے سے محروم رہے گا۔ اس کا نتیجہ ظاہر ہے۔ اقتصادی بدحالی اخلاقی پستی اور قومی زوال ۔ زکوۃ کے ذریعے سے جہاں قوم کی اقتصادی حالت کا تزکیہ اسی جہت سے ہوتا ہے کہ افراد کو کار آمد وجود بننے کا موقع ملتا ہے۔ وہاں افراد کا تزکیہ اس جہت سے بھی ہوتا ہے کہ بخل و حرص اور خود غرضی جیسے اخلاق رزیلہ کی اصلاح ہوتی ہے! اصلاح ہوتی ہے اور شفقت علی خلق اللہ وغیرہ اخلاق فاضلہ کا نشو و نما ہوتا ہے۔ اس تعلق میں باب نمبر ۳۰ بھی دیکھئے۔ أَطْوَلُكُنَّ يَدًا : حضرت عائشہ کی مذکورہ بالا روایت میں حضرت زینب کا نام نظر انداز ہے۔ مورخین اسلام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ آنحضرت عے کے بعد آپ کی ازواج میں۔ ازواج میں سے حضرت زینب پہلے فوت ہوئیں او ت ہوئیں اور وہ بہت خیرات کیا کرتی تھیں اور قد و قامت کی بھی چھوٹی تھیں۔ حضرت زینب کی وفات حضرت عمرؓ کی خلافت میں ہوئی اور حضرت سودہ کی وفات جن کے ہاتھ بظاہر لمبے تھے معاویہ کے دور میں ہوئی۔ (فتح الباری جزء ۳ صفحه ۳۶۲-۳۶۳) مذکورہ بالا روایت کے الفاظ فَعَلِمْنَا بَعْدُ إِنَّمَا كَانَتْ طُولَ يَدِهَا الصَّدَقَةُ سے واضح ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج پر ان کی غلط فہمی بعد میں ظاہر ہوئی۔ پہلے وہ بجھتی تھیں کہ حضرت سودہ سب سے پہلے فوت ہوں گی مگر بعد میں معلوم ہوا کہ ہاتھوں کی ظاہری لمبائی مراد نہیں بلکہ مراد سخاوت تھی۔ حضرت عائشہ کی دوسری روایتوں میں حضرت زینب بنت جحش کا نام صراحتا لیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعض دفعہ انہوں نے بوجہ شہرت حضرت زینب کا نام نہیں لیا۔ امام بیہقی نے کتاب دلائل میں شعبی کی یہی روایت بغیر مسروق اور حضرت عائشہ کا ذکر کرنے کے ان الفاظ میں نقل کی ہے : قُلْنَ النِّسْوَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَيُّنَا أَسْرَعُ لَحُوقًا بِكَ قَالَ أَطْوَلُكُنَّ يَدًا فَأَخَذْنَ يَتَذَارَعْنَ أَيْتَهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ عَلِمْنَ أَنَّهَا كَانَتْ أَطْوَلُهُنَّ يَدًا فِي الْخَيْرِ وَالصَّدَقَةِ ۔ (دلائل النبوة للبيهقي، جماع ابواب إخبار النبي بالكوائن بعده، باب ما جاء في إخبار النبي بمن يكون أسرع لحوقا به من زوجاته ، جزء ۶ صفحه ۳۷۱) ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۳۶۳) یعنی عورتوں نے رسول اللہ صہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہم میں سے کون سب سے جلدی آپ سے ملے گی؟ آپ نے فرمایا: تم میں سے جس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں۔ اس پر وہ ناپنے لگیں کہ ان میں سے کون لمبے ہاتھ والی ہے۔ پھر جب حضرت زینب کی وفات ہوئی تو انہوں نے جان لیا کہ وہ صدقہ و خیرات میں ان میں سے لمبے ہاتھ والی تھیں۔ 길 صلى الله حاکم نے بھی کتاب المناقب میں یہی روایت ( بسند یحی بن سعيد عن عمرة عن عائشہ ) نقل کی ہے۔ (المستدرک