صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 543
صحيح البخاری جلد ۳ بَيْنَ لَا بَتَيْهَا حَرَامٌ۔ اطرافه: ١٨٦٩ ۵۴۳ ۲۹ - كتاب فضائل المدينة صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ کے دو پتھریلے میدانوں کے درمیان ( کی جگہ ) حرم ہے۔ تشريح : لَابَنَى الْمَدِينَةِ : باب کے عنوان اور متعلقہ روایت سے ظاہر ہے کہ سال سے ظاہر ہے کہ سابقہ دونوں باب بلحاظ مضمون ضمنی تھے اور ان کا تعلق باب نمبرا کے مضمون سے ہے۔ اب اس باب میں حرم مدینہ کی میں حرم مدینہ کی تعیین کی گئی ہے۔ لابة کے معنی سیاہ پتھر والی زمین کے ہیں جسے عربی میں حرہ کہتے ہیں۔ یعنی جلے ہوئے پتھر ۔ مدینہ پہاڑیوں میں واقعہ ہے۔ اس کے دو پتھر میلے میدانوں کا نام حرة اور لابة ہے۔ اسے نوبة بھی کہتے ہیں۔ مدینہ کا مدینہ کا محل وقوع اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ شرقی و غربی ۔ دیکھئے کتاب المغازی باب ۱۷، جہاں دفاعی نقطہ کے لحاظ سے جغرافیائی محل وقوع کا ذکر کیا گیا ہے۔ بَابه : مَنْ رَغِبَ عَنِ الْمَدِينَةِ جو مدینہ سے اعراض کرے ١٨٧٤ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۱۸۷۴: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ سعید بن مسیب نے ہمیں خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ رسول اللہ علیہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَتْرُكُوْنَ وَسلم سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: لوگ مدینہ کو نہایت اچھی حالت میں چھوڑیں گے۔ پھر یہ حالت ہوگی کہ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ لَا يَغْشَاهَا وہاں وحشی جانور آیا جایا کریں گے۔ اس سے آپ کی إِلَّا الْعَوَافِ يُرِيدُ عَوَافِي السّباع یراقی که دشی درند و پرند اور آخرمیں جنہیں لایا وستی وَالطَّيْرِ وَآخِرُ مَنْ يُحْشَرُ رَاعِيَانِ جائے گا وہ مزینہ (قبیلہ ) کے دو چرواہے ہوں گے۔ مِنْ مُزَيْنَةَ يُرِيْدَانِ الْمَدِينَةَ يَنْعِقَانِ مدینہ کا قصد کریں گے۔ اپنی بکریاں ہانک کر لائیں بِغَنَمِهِمَا فَيَجِدَانِهَا وَحْشًا حَتَّى إِذَا گے تو اسے ویران پائیں گے۔ یہاں تک کہ جب و وہ بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ خَرًّا عَلَى دونوں منیۃ الوداع کے پاس پہنچیں گے تو اپنے منہ وُجُوهِهِمَا ۔ کے بل گر پڑیں گے۔