صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 542
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۴۲ ۲۹ - کتاب فضائل المدينة بَاب : الْمَدِينَةُ طَابَةٌ مدینہ طابہ ہے ۱۸۷۲ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ۱۸۷۲: خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سلیمان نے ہمیں بتایا، کہا: عمرو بن یحی نے مجھ سے يَحْيَى عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بیان کیا۔ انہوں نے عباس بن سہل بن سعد سے، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَقْبَلْنَا انہوں نے حضرت ابوحمید (ساعدی) رضی اللہ عنہ سے روایت کی (انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ وسلم کے ساتھ ہم تبوک سے آئے۔ یہاں تک کہ مدینہ کے قریب اونچائی پر پہنچے تو آپ نے فرمایا: یہ هَذِهِ طَابَةٌ۔ اطرافه: ١٤٨١ ، ٣١٦١، ٣٧٩١، ٤٤٢٢۔ طابہ (مقام) ہے۔ تشريح : المَدِينَةُ طَابَة : مدينا قدیم نام پر تھا این مقام و با و ہلاکت اور ب مقام وباء وہلاکت اور اسی وجہ سے اسے ہ سے اسے یہ نام دیا گیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور نیک فال اس کا نام طالبہ رکھا جو طیب کے معنوں میں ہے۔ یعنی مقام صحت افزاء اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے اسے ویسا ہی بنا دیا۔ بَاب ٤ : لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ مدینہ کے دو پتھر میلے میدان ۱۸۷۳ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۸۷۳: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، سعید نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُوْلُ لَوْ رَأَيْتُ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ الظَّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ تَرْتَعُ مَا ذَعَرْتُهَا قَالَ کہا کرتے تھے: اگر مدینہ میں میں ہرن چرتے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دیکھوں تو میں انہیں خوف زدہ نہ کروں کیونکہ رسول اللہ