صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 541
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۴۱ ۲۹ - كتاب فضائل المدينة بَاب ۲ : فَضْلُ الْمَدِينَةِ وَأَنَّهَا تَنْفِي النَّاسَ مدینہ کی فضیلت اور یہ کہ وہ برے لوگوں کو نکال دے گا ۱۸۷۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۸۷۱: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنْ يَحْيَى بن مالک نے ہمیں خبر دی کہ یحی بن سعید سے مروی ہے، سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ سَعِيدَ کہا: میں نے ابوالحباب سعید بن بیسار سے سنا۔کہتے ابْنَ يَسَارٍ يَقُوْلُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ تھے: میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسی بستی اللهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ( میں جانے ) کا حکم ہوا جو دوسری بستیوں کو کھا جائے رَضِيَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ گی۔اسے یثرب کہتے ہیں اور وہی (بستی ) مدینہ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُوْلُوْنَ يَثْرِبُ وَهِيَ ہے۔جو (برے) لوگوں کو ( ردی کی طرح) نکال الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيْرُ دے گی، جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل کو نکال خَبَثَ الْحَدِيْدِ۔تشریح: دیتی ہے۔فَضْلُ الْمَدِينَةِ وَأَنَّهَا تَنْفِى النَّاسَ : دین کی حرمت اسی صورت میں کما حقہ قائم رہ سکی تھی کہ شریر طبقہ اس میں نہ رہے۔بعد کے واقعات نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی حرف بحرف تصدیق کی۔یہودی قبائل نے معاہدہ توڑا اور بیرونی دشمنوں سے خفیہ سازشیں کر کے مدینہ پر حملہ کروایا۔بالآخر اپنی غداری کے نتیجہ میں یکے بعد دیگرے مدینہ سے نکال دیئے گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کا دوسرا حصہ بھی اس وقت پورا ہوا جب مدینہ عالم اسلامی کا مرکز اول بنا اور خلفائے راشدین کے عہد مبارک میں عظیم الشان فتوحات حاصل ہوئیں۔دوسری بستیوں کو کھا جانے کا مفہوم بھی یہی ہے کہ وہ مغلوب ہو جائیں گی۔امام بخاری نے ان ابواب اور روایتوں کی ترتیب کے ذریعہ ان فقہاء کو مسکت جواب دیا ہے۔جنہوں نے حرم مکہ مکرمہ اور حرم مدینہ کے درمیان فضیلت کی بحث اُٹھا کر رائے دی ہے کہ مدینہ صرف مجازی طور پر حرم ہے۔فضیلت در حقیقت ایک نسبتی شی ہے جو مکہ معظمہ کو بلحاظ ذکر تو حید اور مدینہ منورہ کو بلحاظ تکمیل اغراض تو حید حاصل ہے۔مہلب بن ابی صفرہ نے جو مشہور اسلامی سپہ سالار تھے ، جنہوں نے خارجیوں کا قلع قمع کیا تھا یہ نکتہ مجھ کر کہا ہے: هَذَا الْحَدِيثُ حُجَّةٌ لِمَنْ فَضَّلَ الْمَدِينَةَ عَلَى مَكَّةَ لِأَنَّهَا هِيَ الَّتِي اَدْخَلَتْ مَكَّةَ وَسَائِرَ الْقُرَى فِي الْإِسْلَامِ۔یعنی یہ حدیث ان لوگوں کے ہاتھ میں ایک مضبوط دلیل ہے ، جنہوں نے مدینہ کومکہ پر فضیلت دی ہے۔کیونکہ اسی نے مکہ اور باقی بستیوں کو اسلام میں داخل کیا۔فقہاء کی مفصل بحث کے لئے دیکھئے ( فتح الباری جزء ہم صفحه ۱۱۴) (عمدۃ القاری جزء ۱۰ صفحه ۲۳۵)