صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 540
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۴۰ ۲۹ - کتاب فضائل المدينة وادی القری ہے جو قدیم قبائل کی رہائش گاہ تھی۔جس کے اطراف میں قبائل کنانہ رہتے تھے۔یہاں کی پہاڑیوں کے دامن میں قبائل احا بیش بھی بود و باش رکھتے تھے۔حضرت سلمان فارسی جنہوں نے جنگ احزاب کے موقع پر خود حفاظتی کے لئے خندق کھودنے کا مشورہ دیا، ان کا تعلق بھی انہی قبائل سے تھا اور ان کا یہ مشورہ سابقہ تجربہ کی بناء پر تھا جو بوقت جنگ کار آمد ثابت ہوا۔مدینہ کا مل وقوع چھوٹی بڑی پہاڑیوں کے درمیان ہے۔شمال کی طرف تین میل کے فاصلے پر جبل احد ہے۔جس کی شمالی چوٹی بطور نیک فال ثور (یعنی سائڈ ) کہلاتی ہے۔کیونکہ سانڈ کی مصر میں پرستش کی جاتی تھی۔جیسا کہ ہندوستان میں بھی۔جبل احد شرقا غربا پھیلا ہوا ہے۔مدینہ کے جنوب میں جبل غیر ہے۔اس سلسلہ کو ہستان کی وجہ سے دو پتھر یلے میدان بنتے ہیں اور اسی طرح اس کے آس پاس کچھ وادیاں ہیں۔جن میں مختلف الخیال قبائل کی بستیاں ہیں۔ان میں سے میٹر ب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فروکش ہوئے۔بنو حارثہ کی بستیاں جبل احد کی وادیوں میں بلند مقامات پر واقع تھیں۔دشوار گزار کو ہستانی وادیوں میں ایک وسیع میدان تھا جسے جوف مدینہ کہتے تھے اور یہ جگہ جغرافیائی لحاظ سے بہت محفوظ ہے جو دور تک پھیلی ہوئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی حدود حرم میں ہی شمار کیا ہے۔یہ علاقہ کم و بیش گیارہ میل کا رقبہ ہے۔لفظ حرہ کے معنے پتھریلا میدان۔مدینہ میں ایسے میدان دو تھے۔ایک بڑا میدان ایک چھوٹا۔الفاظ مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا سے مراد جبل غیر اور جبل ثور ہیں۔مذکورہ بالا باب کی دوسری روایت (نمبر ۱۸۶۸) میں مسجد تعمیر کرنے کا ذکر ہے جو مسلمانوں کے اجتماع اور ان کی دینی تربیت کے لئے از بس ضروری تھی۔تیسری روایت (نمبر ۱۸۶۹) میں مدینہ کی سرحدوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ایک طرف قبیلہ بنو حارثہ کی بستیاں ہیں اور دوسری طرف جبل غیر۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تدبیر قومی وحدت اور شہر کے باشندوں کے لئے دور رس نتائج پیدا کرنے والی ثابت ہوئی اور یہ تدبیر در اصل ایک قومی معاہدہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں آتے ہی اس کے باشندوں کے درمیان بلالحاظ مذہب وملت لکھوایا اور اس معاہدہ کی تکمیل کے لئے غایت درجہ تاکید فرمائی۔یہ معاہدہ مفصل کتاب المغازی باب ۱۴ کی تشریح میں دیکھئے۔اس کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ہر شخص اپنے عقیدہ کے مطابق عمل پیرا ہونے میں آزاد ہوگا اور مشتر کہ دفاع کی اغراض میں برابر کا حصہ دار۔یہ شرط مدینہ کو حرم قرار دینے کی غرض و غایت واضح کرتی ہے۔مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا۔۔۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جس نے اس میں کسی قسم کا خنہ پیدا کیا یا رخنہ پیدا کرنے والے کو پناہ دی وہ قابل مؤاخذہ ہوگا اور بد عہدی پر اس کی نہ شفاعت قبول کی جائے گی نہ فدیہ قبول کیا جائے گا۔سورہ بقرہ میں اسی معاہدہ کا ذکر ہے۔(البقرۃ : ۸۴-۸۵) اور اس سے قبل بطور انذار آیت ۴۹ میں خلاف ورزی پر کوئی فدیہ و سفارش قبول نہ کئے جانے کا بھی مذکورہ بالا الفاظ میں ذکر ہے۔