صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 539
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۳۹ ۲۹ - كتاب فضائل المدينة الله عليسة اعْتَدَى عَلَيْكُمُ * وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ) (البقرة : ۱۹۵) یعنی اگر حرمت والے مہینہ میں ہتک کی جائے گی تو ہتک کا ازالہ کیا جائے گا اور تمام عزت والی اشیاء کی ہتک کا قصاص لیا جائے گا۔ اس لئے جو تم پر زیادتی کرے تو تم اس پر ویسی ہی زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر کی ہو اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے۔ (یعنی اگر کسی نے (یعنی اگر کسی نے حدود سے تجاوز کیا ، وہ تمہاری مدد کرے گا۔) اس آیت سے ظاہر ہے کہ آنحضرت علی نے جو مدینہ کے شہر اور مضافات کو حرم قرار دیا تو یہ حرمت کا اعلان اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول یا فعل روح القدس کی تجلی سے خالی نہ تھا۔ اس تعلق میں دیکھئے آئینہ کمالات اسلام- روحانی خزائن جلد ۵ حاشیه صفحه ۹۰ تا ۹۴ بعض فقہاء نے یہاں یہ بحث اُٹھائی ہے کہ بیت اللہ کا حرم چونکہ اللہ تعالی کی طرف سے حرم قرار دیا گیا؟ اس لئے اس کی حرمت مدینہ کی حرمت سے افضل ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے تفسیر کبیر - تفسیر سورۃ بنی اسرائیل آیت ۲- جلد ۴ صفحه ۲۹۴ تا ۲۹۸ نیز دیکھئے ابواب ۱۲۰۱۱ مع تشریح ۔ ہجرت اسے قبل مدینہ منورہ کا نام یثرب تھا اور ہجرت کے بعد مدينة النبي سطح سمندر سے ؟ سمندر سے ۶۱۹ میٹر بلند ۔ گرمی بھی شدت کی پڑتی ہے اور سردی بھی شدت کی ۔ درجہ حرارت گرمیوں میں ۲۸ درجے اور سردیوں میں ۵ درجے۔ رات کو شدید سردی اور پانی جاڑوں میں یخ بستہ ہو جاتا ہے۔ پہلے یہاں عمالقہ آباد تھے۔ محققین حال کی تحقیق میں اس کا قدیم نام یثرب معرب ہے۔ قدیم مصری نام اتھر میں ہے۔ اور یہ امر ثابت ہو گیا ہے کہ عمالقہ مصر ۳۲۰۰ ق م میں یہاں بھی حکمران تھے اور ۶۰۰ ق م میں یثرب سے بنی اسرائیل کے ذریعہ نکالے گئے اور یہود اُن کی جگہ آباد ہوئے۔ اتھر میں شہر کی تعمیر کا زمانہ ۲۲۰۰ اور ۱۶۰۰ ق م کے درمیان ۱ کے درمیان اندازہ کیا گیا ہے۔ جوف نمود، تبوک ، خیبر، تیما ر بیماء اور مدین یهود یہود کی فوجی طاقت کے مرکز تھے۔ ان کے قلعے مشہور تھے۔ ۷ھ میں ان قلعوں کی تسخیر ہوئی ۔ قبائل از دکی دوشاخوں اوس و خزرج نے سد مارب کے حادثے کے بعد مکہ مدینہ کے قریب کے علاقہ میں ہجرت کی اور طاقت پکڑی۔ مکہ مکرمہ اڑھائی ہزار سال قبل مسیح کاروانِ تجارت کی ایک اہم منزل تھی۔ تقریباً دو ہزار سال ق م حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت اسماعیل کو یہاں آباد کیا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا ذکر بالفاظ دعائے ابراہیم کیا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے: رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ * رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمْ وَارْزُقُهُمْ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (ابراهیم:۳۸) ترجمہ: اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے معزز گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی ؛ لا بسایا ہے۔ اے ہمارے رب ! ( میں نے ایسا اس لئے کیا ہے ) تا وہ عمدگی سے نماز ادا کریں۔ پس تو لوگوں کے دل ان کی طرف جھکا دے اور انہیں مختلف پھلوں سے رزق دیتارہ۔ تاکہ وہ ( ہمیشہ تیرا شکر کرتے رہیں۔ بنو اسماعیل کے قحطانی قبائل نے غلبہ حاصل کیا تو بنو اسماعیل میں سے قصی یہاں کے رئیس ہوئے۔ مکہ کے آس پاس اسماعیلی قبائل آباد تھے۔ مکہ کے جنوب میں جو آبادیاں ہیں۔ وہ مشہور قبیلہ ہذیل کا مسکن تھیں۔ جنوب کی طرف