صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 535
صحيح البخاری جلد۳ ۵۳۵ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد نے عبادات کی ادائیگی میں عورت کو پوری آزادی دی ہے۔ان کے وجوب و عدم وجوب ثواب و عقاب میں اسے مرد کے で برابر رکھا گیا۔فرماتا ہے: فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أَضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى بَعْضُكُمُ منْ بَعْضٍ۔(آل عمران (۱۹۶) یعنی ان کے رب نے ان کی دعائیں سنیں کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا خواہ مرد ہو یا عورت۔تم آپس میں ایک سے ہی ہو۔یعنی نیکیوں کے حصول اور اس کے ثواب میں کسی قسم کا فرق نہیں ہوتا۔لیکن اس کے خلاف تو رات میں عورت کو مرد کی اجازت یا عدم اجازت کے ساتھ پابند کیا گیا ہے۔چنانچہ گفتی باب ۳۰ میں آتا ہے:- اور اگر کوئی عورت خداوند کی منت مانے اور اپنی نو جوانی کے دنوں میں اپنے باپ کے گھر ہوتے ہوئے اپنے اوپر کوئی فرض ٹھہرائے اور اُس کا باپ اُس کی منت اور اس کے فرض کا حال جو اُس نے اپنے اوپر ٹھہرایا ہے سُن کر چپ ہو رہے تو وہ سب منتیں اور سب فرض جو اُس عورت نے اپنے اوپر ٹھہرائے ہیں ؛ قائم رہیں گے۔لیکن اگر اُس کا باپ جس دن یہ سنے، اسی دن اُسے منع کرے تو اُس کی کوئی منت یا کوئی فرض جو اُس نے اپنے اوپر ٹھہرایا ہے، قائم نہیں رہے گا۔اور اگر کسی آدمی سے اُس کی نسبت ہو جائے حالانکہ اُس کی منتیں یا منہ کی نکلی ہوئی بات جو اس نے اپنے اوپر فرض ٹھہرائی ہے، اب تک پوری نہ ہوئی ہو۔۔۔۔اس کی ہر منت کو اور اپنی جان کو دُکھ دینے کی ہر قسم کو اُس کا شوہر چاہے تو قائم رکھے اور اگر چاہے تو باطل ٹھہرائے۔“ (گنتی باب ۳۰ آیت ۳ تا ۱۶) قَالَ أَبُو عَبْدِ الله : بعض محدثین نے روایت نمبر ۱۸۶۶ میں یحیی بن ایوب کی سند کوترجیح دی ہے۔اور ہشام بن یوسف کی روایت سے ظاہر ہے کہ ابن جریج نے سعید بن ابی ایوب سے یہ روایت سنی۔امام بخاری کی تحقیق کی رو سے ظاہر ہے کہ ابن جریج نے دونوں سے سنا؛ یعنی تکی بن ایوب اور سعید بن ابی ایوب سے اور ان دونوں نے حضرت عقبہ بن عامر سے روایت کی ہے۔چنانچہ اس روایت کے آخر میں یہ تصریح موجود ہے کہ ابوالخیر مرثد بن عبداللہ ؛ حضرت عقبہ بن عامر کے دائگی رفیق ہیں۔(تفصیل کے لیے دیکھنے فتح الباری جز پہ صفہ ۱۰۴) 0000000000