صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 39
صحيح البخاری جلد ۳ ٣٩ ٢٤ - كتاب الزكاة باب ١٤٢٠: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۱۴۲۰: موسی بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا : ) إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ فِرَاسِ ابوعوانه ( وضاح یشکری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنِ الشَّعْبِي عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ فراس (بن سحي ) سے، فراس نے شعمی سے شعمی نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی سے روایت کی کہ نبی ﷺ کی بعض ازواج نے نبی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوْقًا سے کہا: ہم میں سے کون سب سے جلدی آپ سے ملے گی؟ آپ نے فرمایا: جس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں تو ایک لکڑی لے کر وہ اپنے اپنے ہاتھ ناپنے لگیں۔قَالَ أَطْوَلُكُنَّ يَدًا فَأَخَذُوْا قَصَبَةً يَذْرَعُوْنَهَا فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا حضرت سودہ کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا تھا۔ہمیں بعد فَعَلِمْنَا بَعْدُ أَنَّمَا كَانَتْ طُوْلَ يَدِهَا میں معلوم ہوا کہ ہاتھ کی لمبائی سے مراد تو صدقہ تھا الصَّدَقَةُ وَكَانَتْ أَسْرَعَنَا لُحُوْقًا بِهِ اور ہم میں سے وہ زوجہ سب سے پہلے آنحضرت سے ملیں جو صدقہ کو بہت پسند کرتی تھیں۔وَكَانَتْ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ۔فَضْلُ صَدَقَةِ الشَّحِيحِ الصَّحِيحِ بیاری میں انسان صدقہ کرنے پر راغب ہو جاتا ہے خصوصاً تشریح یا جب موت نظر آ رہی ہو۔یہ صدقہ اس صدقہ کی مانند نہیں جس کا ذکر سابقہ باب (نمبر ۱۰) میں گزر چکا ہے۔ایسا ہی ایک سخنی انسان بھی بالطبع سخاوت کرتا ہے۔لیکن اگر بخیل ہو اور مال جمع کرنے کی حرص بھی رکھتا ہو۔بیماری وغیرہ کی مصیبت میں بھی مبتلا نہ ہو اور صدقہ کرے تو وہ صدقہ زیادہ قابل قدر ہوگا۔کیونکہ اس نے ان وجوہ کی موجودگی میں جو صدقہ کے مانع ہو سکتے تھے، اپنے نفس کا مقابلہ کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیا ہے۔اس میں اسے اپنے نفس سے ایک بڑا جہاد کرنا پڑا ہے۔عنوان باب میں جن دو آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے ان کا بھی یہی مفہوم ہے کہ صدقہ کا محرک موت وغیرہ کا خیال نہ ہو۔ان میں سے پہلی آیت یہ ہے: وَأَنفِقُوا مِنْ مَّا رَزَقْنَكُمُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَدَّقَ وَاكُنْ مِّنَ الصَّالِحِينَ (المنافقون: 11) { اور خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تمہیں دیا ہے پیشتر اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وہ کہے : اے میرے رب ! کاش تو نے مجھے تھوڑی سی مدت تک مہلت دی ہوتی تو میں ضرور صدقات دیتا اور نیکو کاروں میں سے ہو جاتا۔اور دوسری آیت یہ ہے : یایھا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَكُمُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ وَالْكَافِرُوْنَ هُمُ الظَّالِمُونَ ) (البقرة: ۲۵۵) {اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ کوئی تجارت ہوگی اور نہ کوئی دوستی اور نہ کوئی شفاعت۔اور کافر ہی ہیں جو ظلم کرنے والے 0